
تصوری/آئی اے این ایس
ٹرمپ انتظامیہ نے ایچ-1 بی اور دیگر غیر ملکی پروفیشنلز کے لیے ملازمت ختم ہونے کے بعد ملنے والی 60 دن کی ’گریس پیریڈ‘ (رعایتی مدت) ختم کرنے کی تجویز کا جائزہ مکمل کر لیا ہے۔ اس سے ہزاروں ہندوستانی ملازمین اور ان کے خاندانوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ ہوم لینڈ سیکورٹی ڈپارٹمنٹ کی ’60 دن کی متبادل رعایتی مدت ختم کرنے‘ کی تجویز 6 اگست کو وائٹ ہاؤس کے آفس آف انفارمیشن اینڈ ریگولیٹری افیئرز کو بھیجی گئی تھی۔
آفیشیل ریگولیٹری ریکارڈ کے مطابق 27 اگست کو جائزہ مکمل ہوا اور اسے ’تبدیلیوں کے ساتھ منظوری‘ کے طور پر درج کیا گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ تجویز میں کچھ تبدیلیوں کے ساتھ وائٹ ہاؤس کی نظر ثانی کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ یہ تجویز ابھی شائع نہیں کی گئی ہے اور اس کی مکمل شرائط ابھی دستیاب نہیں ہیں۔ اس لیے فی الحال 60 دن کی تحفظ فراہم کرنے والی موجودہ سہولت نافذ رہے گی۔ اگلا قدم عام طور پر مجوزہ ضابطے کو ’فیڈرل رجسٹر‘ میں شائع کرنا ہوگا، جس کے بعد عوام کی رائے جاننے کے لیے ایک مدت مقرر کی جائے گی۔ اس کے بعد کسی بھی تبدیلی کو نافذ کرنے سے پہلے ڈی ایچ ایس کو عوام کی آراء پر غور کرنا ہوگا اور حتمی ضابطہ جاری کرنا ہوگا۔
اس تجویز کا ریگولیٹری انفارمیشن نمبر 1615-اے ڈی 22 ہے اور اسے امریکی سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سروسز تیار کر رہی ہے۔ ریگولیٹری ریکارڈ میں اسے ایک ایسے مجوزہ ضابطے کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو معاشی اعتبار سے بہت اہم نہیں ہے اور جس کے لیے کوئی قانونی مدت مقرر نہیں ہے۔ موجودہ ضوابط کے تحت اہل ملازمین کو ملازمت ختم ہونے کے بعد مسلسل 60 دن تک یا ان کے مجاز قیام کی مدت ختم ہونے تک امریکہ میں رہنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ اس مدت کے دوران متاثرہ ملازمین کوئی دوسرا ایسا آجر تلاش کر سکتے ہیں جو انہیں اسپانسر کرنے کے لیے تیار ہو، اپنی امیگریشن حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں یا امریکہ چھوڑنے کی تیاری کر سکتے ہیں۔ اس میں ایچ-1 بی، ایل-1، او-1 اور کئی دیگر عارضی ملازمت کے ویزا رکھنے والے افراد شامل ہیں۔
ہندوستانی شہری ایچ-1 بی ویزا حاصل کرنے والوں کا سب سے بڑا گروپ ہیں۔ اگر انتظامیہ اس تجویز پر آگے بڑھتی ہے تو ہندوستانی شہریوں کو خاص طور پر غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایشیائی امریکیوں، مقامی ہوائی باشندوں اور بحرالکاہل کے جزائر کے باشندوں سے متعلق صدارتی مشاورتی کمیشن کے سابق رکن اجے جین بھٹوریا نے کہا کہ ’’میں ڈی ایچ ایس کی اس مجوزہ پالیسی کی سخت مذمت کرتا ہوں اور اسے غلط قرار دیتا ہوں۔ 60 دن کی گریس پیریڈ ختم کرنا غیر انسانی اور ناقابل عمل ہے۔ جب کسی اعلیٰ ہنرمند ملازم کی اچانک ملازمت چلی جاتی ہے تو 60 دن کا وقت پہلے ہی بہت کم ہوتا ہے۔ اس تحفظ کو مکمل طور پر ختم کرنے سے قانون کی پابندی کرنے والے ہزاروں لوگوں کے پاس بالکل بھی وقت نہیں بچے گا۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ 60 دن کا یہ ضابطہ جنوری 2017 میں نافذ ہوا تھا۔ یہ ہنرمند تارکین وطن اور غیر تارکین وطن ملازمین سے متعلق بڑے ضوابط کا حصہ تھا۔ یہ ضابطہ ہر منظور شدہ ویلیڈیٹی پیریڈ کے دوران ایک بار گریس پیریڈ کی اجازت دیتا ہے، لیکن امیگریشن حکام کو یہ اختیار بھی دیتا ہے کہ وہ اپنی صوابدید سے اسے کم کر سکتے ہیں یا دینے سے انکار کر سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ایچ-1 بی پروگرام امریکی کمپنیوں کو ایسے غیر ملکی پروفیشنلز کو ملازمت دینے کی اجازت دیتا ہے جن کے پاس مخصوص ملازمتوں کے لیے اعلیٰ درجے کی معلومات یا مہارت ہو۔ ٹیکنالوجی کمپنیاں اس کا سب سے زیادہ استعمال کرتی ہیں اور منظور شدہ ایچ-1 بی مستفیدین میں ہندوستانی شہریوں کی تعداد ہمیشہ سے کافی زیادہ رہی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔