تصویر بشکریہ سوشل میڈیا، گریب
نیویارک میں مسلسل بارش کے باوجود ہزاروں شہریوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف شہر میں منعقدہ ملک گیر احتجاج میں شامل ہوئے۔ نیویارک بھر میں 90 سے زیادہ مقامات پر احتجاج کا منصوبہ بنایا گیا تھا، اور ملک بھر میں لاکھوں لوگوں کے "قومی یوم سیول نافرمانی " میں شامل ہونے کی توقع ہے۔
Published: undefined
"نو کنگس" ویب سائٹ کے مطابق، ہفتہ کے روز ملک گیر احتجاج کا اہتمام "آمریت ، ارب پتی پر مرکوز سیاست اور جمہوریت کی عسکریت نوازی کو مسترد کرنے" کے لیے کیا گیا۔ نیویارک میں مین ہٹن، کوئنز، بروکلین اور اسٹاٹین آئی لینڈ میں متعدد مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ ہزاروں مظاہرین برائنٹ پارک اور ففتھ ایونیو کے ارد گرد جمع ہوئے اور میڈیسن اسکوائر پارک کی طرف پرامن مارچ کیا۔
Published: undefined
مظاہرین نے ٹرمپ انتظامیہ کی مذمت کرتے ہوئے مختلف پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور نعرے لگا رہے تھے۔ ان کی تختیوں پر یہ جملے لکھے تھے "ہم کیا چاہتے ہیں؟ کوئی آئی سی ای (یو ایس امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ) نہیں!" ہم اسے کب چاہتے ہیں؟ ابھی!‘‘ ’’ انصاف نہيں، تو امن نہيں!‘‘ ’’کوئی ملک بدری منظور نہیں!‘‘
Published: undefined
ویسٹ چیسٹس کاؤنٹی سے نیویارک شہر پہنچنے والے لوکا براؤن نے کہا، "ہماری کمیونٹی میں ایسے لوگ ہیں جنہیں آئی سی ای نے بغیر کسی کارروائی کے، بغیر ہیبیس کارپس کے حراست میں لیا ہے۔ لوکا براؤن نے کہا کہ "مجھے امید ہے کہ عدالتیں اپنا کام کرتی رہیں گی اور لوگ اپنا کام کرتے رہیں گے۔"
Published: undefined
نیویارک کے رہنے والے لو باؤر نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ دفاع کے لیے فنڈز فراہم کرنے کے لیے وفاقی پروگراموں، سائنس، صحت کی نگہداشت، صاف توانائی اور انتخابی تحفظ کے فنڈز میں کٹوتی کر رہی ہے اور ان لاکھوں امریکیوں سے میڈیکیئر چھین رہی ہے جو پہلے ہی صحت کی نگہداشت تک رسائی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، جو یہ درست قدم نہیں ہے ۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined