امریکہ-ایران جنگ، قومی آواز گرافکس
پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد میں جمعہ (10 اپریل 2026) کی دیر شب امریکہ اور ایران کے نمائندہ وفود کے پہنچنے کی توقع ہے۔ دونوں ممالک 11 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں ایک دوسرے کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے ای-9 سیکٹر واقع پاکستان ایئر فورس آفیسرز میس بلڈنگ میں دونوں ممالک کے وفود کی ملاقات اور بات چیت ہو سکتی ہے۔ اس کے لیے تیاریاں بھی مکمل ہو چکی ہیں۔
Published: undefined
ذرائع کے مطابق پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی، پاکستانی فوج، اسلام آباد پولیس اور پاکستانی رینجرز نے ایئر فورس آفیسرز میس بلڈنگ کو سیکورٹی کے لحاظ سے سب سے موزوں قرار دیتے ہوئے یہیں اجلاس کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس کے ساتھ متبادل کے طور پر وزیر اعظم ہاؤس اور وزارت خارجہ کے دفتر کو بھی رکھا گیا ہے، جبکہ آخری وقت میں اگر کوئی تبدیلی یا ہنگامی صورتحال پیش آئے تو راولپنڈی میں واقع فوجی ہیڈکوارٹر میں اجلاس کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔
Published: undefined
موصولہ خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ ای-9 سیکٹر کی طرف جانے والے راستوں کو 2 کلومیٹر پہلے ہی بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ علاقہ میں اینٹی ڈرون سسٹم اور جیمنگ سسٹم کو فعال کر دیا گیا ہے۔ ای-9 سیکٹر میں پاکستان ایئر فورس کے ہیڈکوارٹر کے احاطہ کے اندر آفیسرز میس بلڈنگ واقع ہے۔ پی اے ایف آفیسرز میس میں اتوار (12 اپریل 2026) تک ایئر فورس افسران کے ذاتی پروگرام منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
Published: undefined
جو خبریں سامنے آ رہی ہیں، اس کے مطابق اسلام آباد پولیس اور فوج نے پاکستان ایئر فورس آفیسرز میس کی طرف جانے والے تمام راستے (کانسٹی ٹیوشن ایونیو، مارگلہ روڈ، جناح ایونیو، رفیق روڈ اور مشف ایونیو) 2 کلومیٹر پہلے ہی بند کر دیے ہیں۔ تاہم اب تک پاکستان حکومت نے آفیشیل طور پر یہ واضح نہیں کیا ہے کہ دونوں ممالک کے وفود کس مقام پر باضابطہ مذاکرات کریں گے، اور اس بارے میں آخری فیصلہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کریں گے۔
Published: undefined
بہرحال، پاکستان کے جے-5 سیکٹر واقع سیرینا ہوٹل کو اتوار تک دونوں ممالک کے نمائندوں کی قیام کے باعث خالی کرا لیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران اور امریکہ کے وفود وہیں قیام کریں گے۔ اس کے ساتھ آئی ایس آئی، پاکستانی فوج، رینجرز اور اسلام آباد پولیس نے اپنی سفارش میں یہ بھی کہا ہے کہ اگر سیرینا ہوٹل میں مذاکرات کرانے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں پورے ریڈ زون کو اندر سے بھی بند کرنا پڑے گا اور غیر اعلانیہ کرفیو جیسی صورتحال نافذ کرنا ہوگی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined