
وینزویلا کے گرفتار صدر مادورو، تصویر ’ایکس‘ @Its_ereko
وینزویلا پر امریکہ کے حملہ سے پوری دنیا میں ہلچل مچ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کچھ گھنٹہ قبل دعویٰ کیا تھا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی بیوی کو گرفتار کر لیا گیا ہے، اور اب گرفتار مادورو کی تصویر بھی سامنے آ گئی ہے۔ تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ امریکی فوجیوں کے قبضہ میں ہیں۔
Published: undefined
اس درمیان امریکی اٹارنی جنرل بونڈی کا بیان سامنے آیا ہے، جنھوں نے مادورو اور ان کی بیوی کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے کی اطلاع دی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’نکولس مادورو اور ان کی بیوی سیلیا فلوریس پر نیویارک کے جنوبی ضلع میں مقدمہ داخل کیا گیا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید بتایا کہ ’’مادورو پر نشیلی اشیا سے متعلق دہشت گردی کی سازش (نارکو-ٹیررزم)، کوکین درآمد کی سازش، مشین گن اور تباہناک سامانوں کے قبضہ اور امریکہ کے خلاف مشین گن و تباہناک سامانوں کے قبضہ کی سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔‘‘ بونڈی کا کہنا ہے کہ جلد ہی امریکی عدالتوں میں مادورو اور ان کی بیوی کو انصاف کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ امریکی حملہ کے بعد وینزویلا میں حالات کشیدہ نظر آ رہے ہیں۔ حالانکہ وینزویلا کے وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کوئی بھی بزدلانہ حملہ عوام کی طاقت کے آگے ٹک نہیں پائے گا۔ انھوں نے اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی ایمرجنسی میٹنگ کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ وینزویلا کے وزیر داخلہ کا بیان بھی سامنے آیا ہے، جس میں انھوں نے عوام کو پُرسکون رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک کی قیادت اور فوج پر بھروسہ رکھیں۔
Published: undefined
امریکی حملہ کی تنقید کا سلسلہ بھی شروع ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ کیوبا نے امریکہ حملہ کی مذمت کرتے ہوئے اس عمل کو مجرمانہ قرار دیا ہے۔ کیوبا کے صدر دفتر نے ہفتہ کے روز کہا کہ وہ بین الاقوامی طبقہ سے فوری رد عمل کا مطالبہ کر رہا ہے۔ کچھ دیگر ممالک نے بھی اس حملہ پر اپنا افسوس ظاہر کیا ہے۔
Published: undefined
دوسری طرف ترینداد و ٹوبیگو نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پڑوسی ملک وینزویلا پر امریکی فوجی مہم میں وہ شامل نہیں تھا۔ ترینداد و ٹوبیگو کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ وینزویلا کی عوام کے ساتھ اپنے پُرامن تعلقات کو بنائے رکھنا جاری رکھے گا۔ برطانیہ کے وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے بھی کچھ ایسا ہی بیان دیا ہے۔ انھوں نے امریکی حملوں سے برطانیہ کو الگ کر لیا ہے۔ اسٹارمر نے گزارش کی ہے کہ سبھی ممالک کو بین الاقوامی قوانین پر عمل کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ’’میں بالکل واضح طور سے کہہ سکتا ہوں کہ ہم اس میں شامل نہیں تھے۔ میں ہمیشہ کہتا اور مانتا ہوں کہ ہم سبھی کو بین الاقوامی قوانین پر عمل کرنا چاہیے۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined