دیگر ممالک

فلپائن: سمندر کے درمیان کشتی میں آتشزدگی، 5 مسافروں کی موت، 87 افراد لاپتہ

فلپائن کوسٹ گارڈ کی ترجمان کموڈور نومی کایابایب نے بتایا کہ کشتی پر 134 افراد سوار تھے، ان میں 117 مسافر اور 17 عملے کے اراکین شامل تھے۔ آتشزدگی کے بعد کئی لوگوں کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>سمندری جہاز میں لگی آگ کا منظر، علامتی تصویر&nbsp;<a href="https://x.com/indiannavy">@indiannavy</a></p></div>

سمندری جہاز میں لگی آگ کا منظر، علامتی تصویر @indiannavy

 

فلپائن میں ایک مسافر کشتی میں اچانک آگ لگنے سے کئی افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ یہ حادثہ ملک کے مغربی حصے میں 9 ستمبر کو پیش آیا۔ سمندر کے بیچ کشتی میں لگی اس آگ کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ لاپتہ بھی ہوئے ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔ فلپائن کوسٹ گارڈ کے مطابق حادثے میں اب تک کم از کم 5 افراد کی موت ہو گئی ہے اور تقریباً 42 لوگوں کو بچا لیا گیا ہے۔ درجنوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں جس سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

فلپائن کوسٹ گارڈ کی ترجمان کموڈور نومی کایابایب نے بتایا کہ کشتی پر 134 افراد سوار تھے، ان میں 117 مسافر اور 17 عملہ کے اراکین شامل تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کشتی ایم وی جون ایسٹر منیلا سے روانہ ہوئی تھی۔ جب کشتی بدھ کو صوبہ پلاون میں کورون کے قریب سمندر میں تھی، اسی دوران اس میں آگ لگ گئی۔ آتشزدگی کی وجہ سے کشتی میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوگیا۔ حادثے کا مقام مغربی فلپائن کے سمندری علاقے میں بتایا گیا ہے۔ فی الحال آگ لگنے کی وجوہات کا پتہ نہیں چل سکا ہے۔

کوسٹ گارڈ کے مطابق اب تک 42 افراد کو بچا لیا گیا ہے، جبکہ 87 افراد لاپتہ ہیں۔ حالانکہ افسران نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ تعداد حتمی نہیں ہے، اس میں تبدیلی ممکن ہے۔ کوسٹ گارڈ کی ٹیمیں مسلسل راحت رسانی کی مہم چلا رہی ہیں اور لاپتہ افراد کی تلاش کی جا رہی ہے۔ جائے وقوعہ کی تصاویر میں کوسٹ گارڈ کے جوان سمندر میں پھنسے لوگوں کو لائف جیکٹ پھینکتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور پیچھے کشتی جل رہی ہے۔ چھوٹی کشتیوں کے ذریعہ بھی کچھ لوگوں کو کم گہرے پانی کی جانب لایا گیا۔ قابل ذکر ہے کہ کشتیاں فلپائنی جزیرہ نما میں نقل و حمل کا ایک عام ذریعہ ہیں۔ طوفان، ناقص دیکھ بھال والی کشتیاں، اوور لوڈنگ اور حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی (خصوصاً دور دراز علاقوں میں) کی وجہ سے اکثر یہاں سمندری حادثے پیش آتے رہتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔