
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر (ویڈیو گریب)
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ فرانس کی راجدھانی پیرس جلد ہی مسلم شہر بننے والا ہے۔ انہوں نے اس کے لیے فرانس کی امیگریشن پالیسی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دوسرے ممالک سے آنے والے لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد شہر کی شناخت بدل رہی ہے۔ واضح رہے کہ فرانس میں گزشتہ ماہ سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ رپورٹس کے مطابق 8 لاکھ سے زائد لوگ سڑکوں پر اتر چکے ہیں۔ اسکولوں کے نظام میں خامیوں کے خلاف شروع ہوا احتجاج آہستہ آہستہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اسی معاملے پر ٹرمپ نے امیگریشن کو احتجاج کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیرس جلد ہی مسلمانوں کا شہر بن جائے گا۔ آئیے اس خبر میں سمجھتے ہیں کہ فرانس کے بارے میں اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں۔
فرانس میں عیسائیت کے بعد اسلام دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے۔ آئی این ایس ای ای اور فرانس کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیموگرافک اسٹڈیز کے 2020-2019 کے سروے کے مطابق 18 سے 59 سال کی عمر کے تقریباً 10 فیصد لوگ مسلمان ہیں۔ فرانس میں مسلم برادری کے زیادہ تر لوگ سُنّی ہیں۔ ان کی جڑیں شمالی افریقہ، مشرق وسطیٰ اور ذیلی صحارا افریقہ جیسے علاقوں سے جڑی ہیں۔
2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق سروے میں شامل 76 فیصد مسلمانوں نے مذہب کو اپنی زندگی میں بہت اہم بتایا، جبکہ 24 فیصد نے اسے کسی حد تک اہم قرار دیا۔ دوسری جانب فرانس کے سمندر پار علاقے مایوت میں تقریباً 97 فیصد آبادی مسلمان ہے۔ فرانس میں مسلم آبادی میں تارکین وطن کا بھی حصہ مانا جاتا ہے۔ آئی این ایس ای ای کے مطابق 2024 میں فرانس میں 76.15 لاکھ تارکین وطن رہتے تھے، جو ملک کی کل آبادی کا 11.2 فیصد تھے۔ حالانکہ اس اعداد و شمار میں لوگوں کو ان کے مذہب کی بنیاد پر الگ الگ زمروں میں تقسیم نہیں کیا گیا تھا۔
یورپ میں 2050 تک مسلمانوں کی آبادی کتنی ہو سکتی ہے، اس بارے میں ’پیو ریسرچ سنٹر‘ نے 2017 میں ایک مطالعہ کیا تھا۔ اس میں زیادہ امیگریشن والے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اندازے لگائے گئے تھے۔ اس کے مطابق زیادہ امیگریشن کی صورت میں 2050 تک فرانس کی کل آبادی میں مسلمانوں کا تناسب 18 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ دستیاب موجودہ سروے کے مطابق یہ تناسب تقریباً 10 فیصد ہے۔ مطالعے میں دیے گئے اندازوں کے مطابق سویڈن میں مسلم آبادی کا تناسب 31.6 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ اس کے بعد آسٹریا میں 19.8 فیصد، جرمنی میں 19.4 فیصد، بیلجیم میں 18.2 فیصد اور فرانس میں 18 فیصد مسلم آبادی ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ دوسری جانب برطانیہ میں یہ تناسب 17.2 فیصد، ناروے میں 17 فیصد، ڈنمارک میں 16 فیصد، نیدرلینڈ میں 15.2 فیصد اور فن لینڈ میں فیصد رہنے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مسلم آبادی سے متعلق دستیاب اندازے 2017 کے ہیں اور ان میں پورے فرانس اور یورپ کے دیگر ممالک کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق مسلم آبادی میں اضافے کے اشارے تو ملتے ہیں، لیکن یہ کہنا کہ پیرس یا کوئی دوسرا شہر مسلمانوں کا شہر بن جائے گا، درست نہیں ہوگا۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ فرانس میں اب بھی کیتھولک عیسائیوں کی آبادی سب سے زیادہ ہے اور مسلمانوں کی آبادی ان سے آگے نکل جائے گی، فی الحال اس بات کی تصدیق اعداد و شمار سے نہیں ہوتی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔