دیگر ممالک

’امریکہ رویہ بدلے، تبھی بات ہوگی‘، ٹیرف کی دھمکی پر کناڈا کا سخت رد عمل، جوابی ٹیکس کی تیاری

وزیر مالیات فرانسوا فلپ شیمپین نے مانٹریال میں ہوئی بات چیت کے دوران سخت رخ اختیار کرنے کی بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ ایک وقت ایسا آتا ہے جب آپ کو کہنا پڑتا ہے کہ اب بہت ہو گیا۔

<div class="paragraphs"><p>مارک کارنی (فائل تصویر)، آئی اے این ایس</p></div>

مارک کارنی (فائل تصویر)، آئی اے این ایس

 

امریکہ کی جانب سے نئے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیوں کے بعد کناڈا کے سیاسی لیڈران نے اپنا ردعمل مزید سخت کر دیا ہے۔ کیوبیک میں خطاب کرتے ہوئے کناڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ اگر امریکہ اپنا رویہ تبدیل کرتا ہے، تو کناڈا مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب امریکی درست سوچ کے ساتھ اور ہماری صنعتوں کو شراکت دار کی حیثیت سے احترام دیتے ہوئے مذاکرات کی میز پر آئیں گے، تو ہم بھی یقیناً بات چیت کے لیے تیار ہوں گے۔ ’ژنہوا‘ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق کارنی نے کہا کہ وہ اس سوچ کو قبول نہیں کریں گے کہ ’کناڈا، امریکہ کی کوئی شاخ یا ماتحت اکائی ہے‘ یا پھر کناڈا کے ساتھ امریکہ کے مقابلے میں نقصاندہ سلوک کیا جائے۔

اس دوران وزیر خزانہ فرانسوا فلپ شیمپین نے مونٹریال میں ہونے والی بات چیت کے دوران سخت موقف اختیار کرنے کی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت ایسا آتا ہے جب آپ کو کہنا پڑتا ہے کہ اب بہت ہو گیا۔ شیمپین نے اشارہ دیا کہ 50 فیصد ٹیرف سے متاثر ہونے والے کاروباروں کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے امداد دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت طویل عرصہ سے ایک مضبوط اور پائیدار معیشت بنانے پر کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ’’ہماری پہلی ترجیح ہمیشہ سے ایک مضبوط کناڈیائی معیشت بنانا، صوبوں کے درمیان تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنا، معیشت کو متنوع بنانا اور ملک میں بڑے کام کرنا رہی ہے۔‘‘

اس درمیان کناڈا کے سابق وزیر اعظم جین کریتین نے حکومت سے جوابی اقدامات کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ توانائی، تیل، قدرتی گیس اور پوٹاش جیسی اہم مصنوعات کی برآمدات پر ٹیکس عائد کیا جائے۔ کریتین کا کہنا ہے کہ ’’اگر ہمیں مضبوطی سے کھڑے رہنا ہے تو ہمیں وہیں ضرب لگانی ہوگی جہاں سب سے زیادہ اثر پڑے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ برآمدی ٹیکس کا فائدہ یہ ہے کہ اس کی قیمت ہم نہیں بلکہ امریکی ادا کرتے ہیں۔

دوسری طرف اونٹاریو کے وزیر اعلیٰ ڈگ فورڈ نے بھی سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ کناڈا کو دستیاب تمام جوابی اقدامات استعمال کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ فورڈ نے خبردار کیا کہ اگر تجارتی تعلقات مزید خراب ہوتے ہیں تو امریکہ کو کناڈا بجلی اور اہم معدنیات کی فراہمی روک سکتا ہے۔ واضح رہے کہ امریکہ نے کناڈا سے درآمد ہونے والی 20 ارب ڈالر مالیت کی اشیا پر 50 فیصد ٹیرف ہفتے کی نصف شب کے بعد نافذ کر دیا۔ یہ قدم دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے تک جاری رہنے والی تجارتی بات چیت ناکام ہونے کے بعد اٹھایا گیا۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم کارنی اس سے پہلے کہہ چکے ہیں کہ کناڈا کی جانب سے عائد کیے جانے والے جوابی ٹیرف 8 ستمبر سے نافذ ہوں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔