
علامتی تصویر
روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی تجویز کے درمیان ہندوستان اور چین کے لیے راحت بھری خبر سامنے آئی ہے۔ امریکہ میں پیش کیے گئے ’روس پابندی بل‘ کے نظرثانی شدہ مسودے میں مجوزہ زیادہ سے زیادہ ٹیرف کو 500 فیصد سے گھٹا کر 100 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اگر یہ بل قانون بن جاتا ہے تو ہندوستان جیسے روسی تیل کے بڑے درآمد کنندگان پر پہلے کے مقابلے میں کم اقتصادی دباؤ پڑ سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ریپبلکن اور ڈیموکریٹ اراکین پارلیمنٹ نے منگل کے روز ’روس پابندی بل‘ کا نظرثانی شدہ ورژن پیش کیا۔ نئے مسودے میں روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر زیادہ سے زیادہ 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس سے پہلے اس بل میں ایسے تمام ممالک پر 500 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ نظرثانی شدہ بل میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو یہ اختیار دینے کی بھی تجویز ہے کہ اگر انہیں محسوس ہو کہ یہ امریکہ کے قومی مفاد میں ہے تو وہ ان پابندیوں یا ٹیرف میں چھوٹ دے سکتے ہیں۔
امریکہ کا ماننا ہے کہ ہندوستان اور چین روسی خام تیل کے سب سے بڑے خریداروں میں شامل ہیں۔ نظرثانی شدہ بل کے مطابق زیادہ سے زیادہ ٹیرف صرف ان 5 سرفہرست ممالک پر نافذ ہوگا جو روس سے سب سے زیادہ تیل اور قدرتی گیس خریدتے ہیں۔ اس سے پہلے یہ شق تمام درآمد کنندہ ممالک پر نافذ ہونے والی تھی۔ یہ بل ریپبلکن سنیٹر لنڈسے گراہم اور ڈیموکریٹ سنیٹر رچرڈ بلومن تھل نے پیش کیا تھا۔ نظرثانی شدہ بل کو بھی ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں پارٹیوں کی حمایت حاصل ہو رہی ہے۔ سینیٹ کے ذرائع کے مطابق فی الحال 26 اراکین پارلیمنٹ اس بل کے شریک سرپرست ہیں اور کانگریس میں آئندہ مراحل کے دوران اسے مزید حمایت ملنے کا امکان ہے۔ فی الحال یہ تجویز امریکی کانگریس میں زیر غور ہے۔ پارلینٹ سے منظوری اور صدر کی توثیق کے بعد ہی یہ قانون کی شکل اختیار کر سکے گی۔ ایسے میں ہندوستان سمیت دیگر ممالک کی نظریں اب اس بل کے آئندہ مراحل پر مرکوز ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔