
علی خامنہ ای/نیتن یاہو (فائل)
وسط اسرائیل میں موجود بیرشیبا واقع ایک اسپتال پر ایرانی حملہ نے تباہی مچا دی ہے۔ اس حملے میں کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں، جس سے اسرائیل چراغ پا دکھائی دے رہا ہے۔ اس حملے کے بعد اسرائیلی وزیر دفاع کیٹز نے اعلان کیا ہے کہ اب وہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو مار ڈالیں گے۔ کیٹز کا یہ بیان اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے ذریعہ ’بدلہ لینے کی قسم‘ کھانے کے کچھ ہی دیر بعد آیا ہے۔
Published: undefined
’دی یروشلم پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا ہے کہ اسپتال پر حملے کے لیے براہ راست طور پر خامنہ ای ذمہ دار ہیں، اس لیے ہم اب براہ راست انھیں ہدف بنائیں گے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اسپتال پر حملہ ایک جنگی جرم ہے، جس کی سزا خامنہ ای کو ملے گی۔ کیٹز کا کہنا ہے کہ جس طریقے سے ایران ہائپرسونک میزائلوں کا استعمال کر رہا ہے، اس سے یہ طے ہو گیا ہے کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آنے والا ہے۔ ہم اب نئے طریقے سے ایران پر حملہ کرنے جا رہے ہیں۔ کیٹز نے ایران میں تباہی مچانے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’ہم علی خامنہ ای کی سلطنت کو ہلا دیں گے۔ چاہے اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے۔ ہم اسرائیل پر سبھی ممکنہ حملے کو ختم کرنے کی سمت میں کام کر رہے ہیں۔‘‘
Published: undefined
واضح رہے کہ تہران پر ہو رہے حملوں کی مخالفت میں ایران نے جمعرات کو اسرائیل کے بیرشیبا واقع سوروکا اسپتال پر حملہ کر دیا۔ اسرائیلی افسران کے مطابق اس حملے میں 6 افراد سنگین طور پر زخمی ہوئے ہیں، جبکہ 20 سے زائد افراد جزوی طور پر زخمی ہوئے ہیں۔ اس حملے میں اسپتال پوری طرح سے منہدم ہو گیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ اسپتال اسرائیلی ڈیفنس فورس کے کمانڈ ایریا میں ہے، اسی لیے اسے ہدف بنایا گیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined