دیگر ممالک

’اب ہم طے کریں گے کیسے اور کب ختم ہوگی جنگ‘، قشم جزیرہ کے پاس امریکی حملہ کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کا عزم

اسرائیل میں بھی ایران کے حوالے سے فوجی تیاریاں اور امریکہ کے ساتھ مل کر ممکنہ کارروائی سے متعلق قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>مجتبیٰ خامنہ ای / آئی اے این ایس</p></div>

مجتبیٰ خامنہ ای / آئی اے این ایس

 

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے دوران ایران نے امریکہ پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے ’اسلامک ریپبلک آف ایران براڈکاسٹنگ‘ نے ہفتہ کے روز صوبہ ہرمزگان کے ایک عہدیدار کے حوالہ سے بتایا کہ امریکہ نے جزیرہ قشم کے قریب ماہی گیری کرنے والی 2 کشتیوں کو نشانہ بنایا۔ اس واقعہ میں 2 ماہی گیر لاپتہ ہو گئے ہیں، جبکہ ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ حالانکہ امریکہ کی جانب سے فوری طور پر اس حملے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

اس دوران ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کسی بھی دشمن کی جانب سے خطرے کی صورت میں فوری اور مؤثر جواب دینے کا حکم دیا ہے۔ ان کے تحریری پیغام کے مطابق جوابی کارروائی کی کوئی جغرافیائی حد نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر دشمن دوبارہ فوجی یا دہشت گردانہ حملہ کرتے ہیں تو ایران نئے تنازعہ کو ختم کرنے کا وقت اور شرائط خود طے کرے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق خامنہ ای نے مسلح افواج کو تمام امریکی اور اسرائیلی ٹھکانوں اور وسائل کو نشانے کی زد میں لانے کے لیے ہدفوں کی فہرست اپڈیٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے گولہ بارود اور ہتھیاروں کی پیداوار بڑھانے، فوجی خفیہ معلومات جمع کرنے کی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے اور ملک کی اندرونی دفاعی صلاحیت کو فروغ دینے کی ہدایت بھی دی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کے امکان کے مسلسل اشارے دیے جا رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر نئے حملے کے امکان پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ امریکہ کے اعلیٰ فوجی حکام نے ٹرمپ کے سامنے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے متبادل منصوبے بھی پیش کیے ہیں۔ اس دوران اسرائیل میں بھی ایران کے حوالے سے فوجی تیاریاں اور امریکہ کے ساتھ مل کر ممکنہ کارروائی سے متعلق قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔