
فائل علامتی تصویر/آئی اے این ایس
دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو ایکسچینج بائنانس سے تقریباً 6.3 ارب ڈالر کی ڈیجیٹل کرنسی چوری ہوئی ہے۔ امریکی تحقیقاتی ایجنسی ایف بی آئی نے اس چوری کے پیچھے شمالی کوریا کے ہیکرز کا ہاتھ ہونے کا الزام لگایا ہے۔ ایجنسی کے مطابق ہیکرز نے محض چند منٹوں میں اربوں ڈالر کی ڈیجیٹل کرنسی چوری کرلی۔ اسے کرپٹو کرنسی کی تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی چوری قرار دیا جا رہا ہے۔
ایف بی آئی نے ہفتے کے روز جاری بیان میں کہا کہ اس سائبر حملے کے پیچھے ’ٹریڈر ٹریٹر‘ نامی ہیکر گروپ کا ہاتھ ہے۔ اسی گروپ نے گزشتہ سال کرپٹو ایکسچینج بائی بٹ سے 1.5 ارب ڈالر کی ڈیجیٹل کرنسی چوری کی تھی۔ ایف بی آئی نے دنیا بھر کے کرپٹو ایکسچینجز، بلاک چین پر ہونے والے لین دین کی نگرانی کرنے والی کمپنیوں اور دیگر متعلقہ اداروں سے مدد طلب کی ہے۔ ایجنسی نے ان سے کہا ہے کہ وہ ان ڈیجیٹل والیٹس کے پتے بلاک کردیں، جن کا تعلق چوری کی گئی رقم سے ہے۔ اس سے ہیکرز چوری کی رقم دوسرے کھاتوں میں منتقل کرکے اس کے اصل ماخذ کو چھپا نہیں پائیں گے۔
ایف بی آئی کی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ہیکرز چوری کی گئی ڈیجیٹل کرنسی کو بنیادی طور پر ایتھیریم میں تبدیل کر رہے ہیں۔ ایجنسی کو خدشہ ہے کہ اب وہ اس رقم کو دوسری کرپٹو کرنسیوں میں تبدیل کرنے کے لیے ڈی فائی اور انسٹنٹ سویپ سروسز کا استعمال کریں گے۔ ڈی فائی ایک ایسی مالیاتی سروس ہے، جو بینک یا کسی دوسرے روایتی ادارے کے بغیر بلاک چین ٹیکنالوجی پر کام کرتی ہے۔ وہیں انسٹنٹ سویپ سروس کے ذریعے ایک ڈیجیٹل کرنسی کو فوری طور پر دوسری ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
جمعرات کے روز بائنانس سے بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں کی شکل میں تقریباً 6.3 ارب ڈالر چوری ہوئے تھے۔ کئی کرپٹو ماہرین نے بھی اس حملے کے طریقۂ کار کو شمالی کوریا کے ہیکرز سے جوڑا تھا۔ کمپنی نے ہفتے کے روز کہا کہ چوری کی گئی ڈیجیٹل کرنسی سے ہونے والے نقصان کی 90 فیصد تلافی کرنے کے لیے اس کے پاس کافی رقم محفوظ ہے۔ اس کے ساتھ ہی کمپنی نے صارفین کو یقین دلایا کہ انہیں ہونے والے نقصان کی مکمل بھرپائی کی جائے گی۔ ایف بی آئی نے کرپٹو کمپنیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ چوری کی رقم سے منسلک ڈیجیٹل والیٹس کو بلاک کردیں، تاکہ ہیکرز رقم کو دوسرے کھاتوں میں منتقل کرکے چھپا نہ سکیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔