
کم یو جونگ، تصویر/آئی اے این ایس
شمالی کوریا نے اپنے جوہری پروگرام کے خلاف ’بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی‘ (آئی اے ای اے) کی حالیہ قرارداد کو مسترد کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اپنی جوہری صلاحیت برقرار رکھنے اور اس کی قابل اعتماد حیثیت یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان کی بہن اور سینئر آفیسر کم یو جونگ نے امریکہ اور دیگر ممالک سے مبینہ جوہری خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے یہ بیان دیا۔ آئی اے ای اے نے جمعرات کے روز ویانا میں اپنی 70ویں جنرل کانفرنس کے دوران ایک قرارداد منظور کی تھی۔ اس میں دہرایا گیا کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے تحت شمالی کوریا کو جوہری ہتھیار رکھنے والے ملک کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ ایجنسی نے پیونگ یانگ سے جوہری سرگرمیاں فوری طور پر روکنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔
کم یو جونگ نے شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا ’کے سی این اے‘ کے ذریعے جاری بیان میں کہا کہ آئی اے ای اے کی قرارداد پیونگ یانگ کے خلاف ہے۔ ایجنسی شمالی کوریا کی سلامتی کی صورتحال میں بیرونی جوہری خطرات کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کے جوہری پروگرام پر سوال اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے امریکہ کی جانب سے یورپ میں جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی اور اشتراک، جنوبی کوریا اور جاپان کے ساتھ ’ توسیع شدہ جوہری ڈیٹرنس سسٹم‘ اور جنوبی کوریا کو جوہری آبدوز کی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے منصوبوں کا حوالہ دیا۔ کم نے ان معاملات کو آئی اے ای اے کے مبینہ دوہرے معیار کی مثال قرار دیا۔
کم یو جونگ کے تبصرے کو ’کے سی این اے‘ کے حوالے سے ’یونہاپ‘ نیوز ایجنسی نے شائع کیا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا اپنی خودمختاری اور سلامتی کے حق کو امریکہ یا مغرب کی رواداری پر منحصر نہیں کرے گا۔ قومی سلامتی کے لیے یہ یقینی بنانا سب سے اہم ہے کہ کسی بھی صورتحال میں شمالی کوریا کی جوہری طاقت کی قابل اعتماد حیثیت پر کوئی سوال نہ اٹھے۔ شمالی کوریا کی وزارت خارجہ نے بھی آئی اے ای اے کی قرارداد پر تنقید کی۔ وزارت کے ترجمان نے کہا کہ جوہری ہتھیار رکھنے والے ملک کے طور پر شمالی کوریا کی حیثیت کو امریکہ، مغربی ممالک یا آئی اے ای اے کی منظوری کی ضرورت نہیں ہے۔ وزارت کے مطابق یہ حیثیت اس کی حقیقی نیوکلیئر ڈیٹرنس اور ملک کے قانون میں درج دفعات سے یقینی بنتی ہے۔
شمالی کوریا نے کہا کہ وہ بیرونی چیلنجز اور خطرات کو روکنے کے لیے اپنی فوجی صلاحیت کے ذریعے ملک کی خودمختاری اور مفادات کا دفاع کرتا رہے گا۔ کم یو جونگ کا یہ تبصرہ اس بیان کے دو دن بعد آیا ہے، جس میں انہوں نے شمالی کوریا کی جوہری ہتھیار رکھنے والے ملک کی حیثیت کو مکمل اور ناقابل واپسی قرار دیا تھا۔ آئی اے ای اے کی قرارداد اور شمالی کوریا کے ردعمل سے ایک بار پھر جزیرہ نما کوریا کے جوہری مسئلے پر پیونگ یانگ اور عالمی برادری کے درمیان اختلافات واضح طور پر سامنے آگئے ہیں۔ آئی اے ای اے جہاں شمالی کوریا کی جوہری سرگرمیاں روکنے اور این پی ٹی کے تحت اس کے جوہری ہتھیار رکھنے والے ملک کی حیثیت کو مسترد کرنے کی بات کہہ رہا ہے، وہیں پیونگ یانگ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو سلامتی اور دفاع کا معاملہ سمجھتا ہے، جسے امریکہ اور مغرب کے سامنے وہ کسی بھی قیمت پر گروی نہیں رکھے گا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔