دیگر ممالک

نیپال: روبی ٹھاکر نے رقم کی نئی تاریخ، پارلیمنٹ کی سب سے کم عمر ڈپٹی اسپیکر بننے کا فخر کیا حاصل

روبی ٹھاکر کا سفر جدوجہد سے بھرپور ہے۔ وہ ایک معمولی فیملی سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے والد سعودی عرب میں مزدوری کرتے ہیں اور ماں کھیتوں میں کام کرتی ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>روبی ٹھاکر، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

روبی ٹھاکر، تصویر سوشل میڈیا

 

نیپال کی سیاست میں ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے ضلع دھنوشا سے رکن پارلیمنٹ روبی ٹھاکر کو پارلیمنٹ میں ایوان نمائندگان کی ڈپٹی اسپیکر منتخب کیا گیا ہے۔ محض 25 برس کی عمر میں اس عہدے تک پہنچ کر انہوں نے نوجوانوں اور خصوصاً خواتین کے لیے ایک بڑی مثال قائم کی ہے۔

Published: undefined

شرم سنسکرتی پارٹی کی رکن پارلیمنٹ روبی ٹھاکر کو انتخاب میں مجموعی طور پر 229 ووٹ حاصل ہوئے۔ انہیں اپنی پارٹی کے ساتھ ساتھ برسراقتدار نیشنل انڈیپنڈنٹ پارٹی (آر ایس پی)، بڑی اپوزیشن پارٹی نیپالی کانگریس اور نیپالی کمیونسٹ پارٹی کی بھی حمایت حاصل رہی۔ نیشنل پرجاتنتر پارٹی نے تنہا انتخاب لڑا اور سی پی این-یو ایم ایل اس انتخاب سے دور رہی۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ روبی ٹھاکر کا سفر کافی جدوجہد سے بھرا رہا ہے۔ وہ ایک معمولی فیملی سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے والد سعودی عرب میں مزدوری کرتے ہیں اور والدہ کھیتوں میں کام کرتی ہیں۔ معاشی اور سماجی چیلنجز کے درمیان پرورش پانے والی روبی نے کم عمری میں ہی اپنی الگ شناخت بنانے کا فیصلہ کیا۔ دسویں جماعت کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ضلع دھنوشا کے بلرا پالی ٹیکنک سے 3 سالہ ڈپلومہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک آرکیٹکچر کنسلٹنسی فرم میں تقریباً 7 ماہ تک کام کیا، جہاں انہیں ہر ماہ 20 ہزار روپے تنخواہ ملتی تھی۔ اس آمدنی کا ایک حصہ وہ اپنے خاندان کی مدد میں بھی دیتی تھیں۔

Published: undefined

ان کا سیاسی سفر سوشل میڈیا کے ذریعہ ’ہرک سامپانگ‘ کی سرگرمیوں سے جڑنے کے بعد شروع ہوا۔ بعد میں وہ عملی سیاست میں آئیں اور 5 مارچ کے انتخاب میں دھنوشا-4 میں شرم سنسکرتی پارٹی کی حمایت میں مہم چلائی۔ انہیں مدھیسی قبائلی زمرے سے امیدوار بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ اپنی پارٹی کی سب سے کم عمر رکن پارلیمنٹ بنیں۔ اب آر ایس پی کی حمایت سے وہ ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئی ہیں۔

Published: undefined

روبی ٹھاکر نے سماجی انصاف، خواتین کو بااختیار بنانے اور جہیز و کم عمری کی شادی جیسے مسائل پر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانونی پابندیوں کے باوجود مدھیش خطہ کے بعض حصوں میں یہ روایات اب بھی جاری ہیں اور وہ ان مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھائیں گی۔ پارلیمانی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ وہ سول انجینئرنگ میں گریجویشن کی تعلیم بھی حاصل کر رہی ہیں۔ ملک کی کم عمر ترین رکن پارلیمنٹ ہونے کے ناطے وہ ڈپٹی اسپیکر کے طور پر اپنے کردار کو سماجی اصلاح اور برائیوں کے خلاف مضبوط قوانین بنانے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined