دیگر ممالک

نیپال: تباہ کن سیلاب میں مرنے والوں کی تعداد 900 سے تجاوز، 4247 افراد اب بھی لاپتہ، ریسکیو آپریشن جاری

افسران نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن کے لیے اب تک 20819 سیکورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ان میں نیپال فوج کے 8722 جوان، نیپال پولیس کے 7894 اہلکار اور مسلح پولیس فورس کے 4203 جوان شامل ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>نیپال میں سیلاب کی تباہی کے بعد ریسکیو مہم کا منظر، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/airnewsalerts">@airnewsalerts</a></p></div>

نیپال میں سیلاب کی تباہی کے بعد ریسکیو مہم کا منظر، تصویر ’ایکس‘ @airnewsalerts

 

نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے باعث مرنے والوں کی تعداد 900 سے تجاوز کر گئی ہے۔ راحت اور بچاؤ مہم کے دوران لاشیں ملنے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ کئی اضلاع میں دریاؤں کے کنارے سے لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی آر آر ایم اے) کی جانب سے پیر کو جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اب تک 903 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ 272 لاشیں جنوبی چتون ضلع میں ملی ہیں، جہاں انتظامیہ کو انہیں سنبھالنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

چتون کے مقامی افسران نے بعد میں برآمد ہونے والی زیادہ تر لاشوں کو دیوگھاٹ میں دفن کر دیا، جو کالی گنڈکی اور تریشولی دریاؤں کا سنگم ہے، تاکہ ضلع میں بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ نہ رہے۔ ضلع انتظامیہ دفتر چتون کے مطابق لاشوں کو دفنانے سے قبل افسران نے ان کے ڈی این اے کے نمونے جمع کیے، تاکہ مستقبل میں ان کی شناخت کرنے میں مدد مل سکے۔ این ڈی آر آر ایم اے نے بتایا کہ کئی دیگر نامعلوم لاشیں مختلف اضلاع کے 21 اسپتالوں میں رکھی گئی ہیں۔ اتھارٹی نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ اگر ان کے کسی رشتہ دار کا اب تک کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے تو وہ شناخت کے لیے سرکاری ریکارڈ چیک کریں۔

این ڈی آر آر ایم اے کے مطابق اب بھی 4247 افراد لاپتہ ہیں، جن میں 592 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بھوٹے کوشی اور تریشولی ندی کے علاقوں میں واقع مختلف ہائیڈرو پاور منصوبوں میں کام کرنے والے 933 ملازمین سے بھی اب تک رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔ افسران کی ٹیمیں ہندوستانی اور چینی تکنیکی ماہرین کی مدد سے مختلف ہائیڈرو پاور منصوبوں کی سرنگوں میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لیے مسلسل راحت اور بچاؤ مہم چلا رہی ہیں۔

واضح رہے کہ نیپال-چین سرحد کے آس پاس متاثرہ علاقوں میں قدرتی آفت آنے کے بعد سے نیپال فوج، نیپال پولیس اور مسلح پولیس فورس کے کئی جوانوں اور دیگر سرکاری ملازمین سے بھی رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔ اس قدرتی آفت میں 267 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں سے 156 افراد کو علاج کے بعد اسپتال سے چھٹی دی جا چکی ہے۔ این ڈی آر آر ایم اے کے مطابق اب تک مجموعی طور پر 10451 افراد کو بحفاظت بچایا گیا ہے۔ ان میں 252 غیر ملکی شہری اور 3344 نیپالی شہری شامل ہیں، جنہیں نیپال فوج نے ایئر لفٹ کے ذریعے بحفاظت نکالا۔ افسران نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن کے لیے اب تک 20819 سیکورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ان میں نیپال فوج کے 8722 جوان، نیپال پولیس کے 7894 اہلکار اور مسلح پولیس فورس کے 4203 جوان شامل ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔