
نیپال میں سیلاب کے بعد ریسکیو ٹیم، تصویر سوشل میڈیا
نیپال میں گزشتہ ہفتہ آئے تباہ کن سیلاب کے باعث مرنے والوں کی تعداد تقریباً 1350 پہنچ گئی ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ مختلف اضلاع میں لاشیں برآمد کی جا رہی ہیں۔ نیپال پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق گیارہویں دن تک (ہفتہ کی صبح 8 بجے تک) 1344 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں۔ مرنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ 4886 افراد (جن میں 606 غیر ملکی بھی شامل ہیں) اب بھی لاپتہ ہیں۔ اچانک آئے سیلاب نے اپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کو بہا دیا اور وسطی نیپال میں بھوٹے کوشی اور تریشولی ندیوں کے کوریڈور کے آس پاس لوگوں کی جان و مال کو بھاری نقصان پہنچایا۔
خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ کے مطابق ایسا خیال کیا جا رہا ہے کہ لاپتہ لوگوں میں سے بڑی تعداد ان لوگوں کی ہے جو ان 2 ندیوں کے کوریڈور پر بنے 11 ہائڈروپاور پروجیکٹس کی سرنگوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ فی الحال وہاں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ جمعہ (4 ستمبر) کو رسوا ضلع میں 60 ایم ڈبلیو کے اپر تریشولی 3اے پروجیکٹ کی سرنگ سے 2 افراد کو زندہ بچایا گیا۔ نیپال حکومت نے کہا کہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے بچاؤ کا کام جاری ہے، ساتھ ہی لاشیں نکالنے، ان کی شناخت کرنے اور امدادی کاموں میں بھی ٹیم کے اراکین مصروف ہیں۔
سیکورٹی ایجنسیوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک 8962 افراد کو بچایا جا چکا ہے، جن میں 1552 غیر ملکی شامل ہیں۔ برآمد لاشوں کی شناخت کی کوششیں بھی تیز کر دی گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق 1260 متوفیوں اور ان کے 1012 رشتہ داروں کے ڈی این اے نمونے لیے گئے ہیں، جس سے نمونوں کی مجموعی تعداد 2272 ہو گئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ نیپال پولیس نے تلاش، بچاؤ اور امدادی کاموں کے لیے 7912 اہلکار تعینات کیے ہیں۔ پولیس کے 65 اہلکار اس قدرتی آفت کا شکار ہوئے ہیں، جبکہ 25 اب بھی لاپتہ ہیں۔ سیلاب نے بھوٹے کوشی اور تریشولی ندیوں کے آس پاس موجود بنیادی ڈھانچے اور ذاتی املاک کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ بچاؤ اور امدادی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد نیپال ان تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے اور املاک کی دوبارہ تعمیر کے لیے بین الاقوامی مدد طلب کر رہا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔