
انگلینڈ کی 20 سالہ خاتون ماڈل ماریہ محمود کو بیوٹی کانٹیسٹ یعنی مقابلۂ حسن کے سیمی فائنل سے اس لیے نکال دیا گیا کیونکہ انھوں نے حجاب پہن رکھا تھا۔ ماریہ نے اس سلسلے میں بتایا کہ وہ بیوٹی کانٹیسٹ میں جس برانڈ کے لیے اترتی ہیں اس نے کہا کہ آپ کے حجاب پہننے کی وجہ سے لوگ ان کی مصنوعات کو خریدنا پسند نہیں کریں گے۔ اس بیوٹی کانٹیسٹ میں سیمی فائنل تک پہنچ چکی ماریہ محمود اگر فائنل میں فاتح قرار دی جاتیں تو وہ مس انگلینڈ کے فائنل میں حصہ لیتیں اور جیتنے کے بعد مس ورلڈ میں انگلینڈ کی نمائندگی کرتیں۔
ماریہ نے اس مقابلے سے نکالے جانے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ’’مجھ سے کہا گیا کہ اگر ہمارے آؤٹ فٹ کے ساتھ آپ حجاب پہنیں گی تو ہمارے سامانوں کی خریداری ختم ہو جائے گی۔‘‘ ماریہ نے کہا کہ برانڈ کے ذریعہ دی گئی اس دلیل کے بعد انھیں اس مقابلے سے ہٹنا پڑا۔
قابل ذکر ہے کہ ماریہ محمود ’مس برمنگھم 2018 بیوٹی کانٹیسٹ‘ میں رنر اَپ رہ چکی ہیں۔ ماریہ نے مقابلہ حسن کے آرگنائزر کو بکنی پہن کر ریمپ پر اترنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ ماریہ نے واضح لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ وہ کسی بھی قیمت پر اپنی تہذیب کے خلاف نہیں جائیں گی۔ ماریہ سماجی کارکن کی شکل میں بھی مشہور ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ مسلمانوں کے سامنے آنے والی منفی شبیہوں کو چیلنج پیش کرنا چاہتی ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔