دیگر ممالک

مشرق وسطیٰ کا بحران بدل رہا ہے دنیا کی توانائی کی حکمت عملی: آئی ای اے

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی سالانہ ’ورلڈ انرجی انویسٹمنٹ رپورٹ 2026‘ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ توانائی کا بحران عالمی سرمایہ کاری کی ترجیحات کو گہرائی سے بدل رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>’آئی ای اے‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر&nbsp;ڈاکٹر فاتح برول، تصویر/آئی اے این ایس</p><p></p></div><div class="paragraphs"></div><div class="paragraphs"></div>

’آئی ای اے‘ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر فاتح برول، تصویر/آئی اے این ایس

 

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث دنیا بھر کے ممالک توانائی کی حفاظت کو لے کر اپنی حکمت عملیوں میں بڑی تبدیلیاں کر رہے ہیں۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کا کہنا ہے کہ یہ بحران ممالک کو توانائی کی فراہمی کے نئے راستے تیار کرنے اور گھریلو وسائل پر زیادہ انحصار کرنے پر مجبور کر رہا ہے ۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی سالانہ ’ورلڈ انرجی انویسٹمنٹ رپورٹ 2026‘ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ توانائی کا بحران عالمی سرمایہ کاری کی ترجیحات کو گہرائی سے بدل رہا ہے۔

Published: undefined

رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کے مؤثر طریقے سے بند ہونے سے پیدا ہونے والی سپلائی کی رکاوٹوں نے توانائی کی سیکورٹی کے حوالے سے خطرے کے تصور کو پوری طرح بدل دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ بحران کچھ ہی سال قبل 2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد پیدا ہونے والے توانائی کے بحران کے بعد آیا ہے۔ دونوں واقعات نے عالمی توانائی کی منڈی کے اتار چڑھاؤ کو نمایاں کیا ہے اور سرمایہ کاری کی حکمت عملیوں کو متاثر کیا ہے۔

Published: undefined

رپورٹ میں ایجنسی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر فاتح برول کی رائے کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت اب تک کے سب سے بڑے توانائی کے تحفظ کے بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم دنیا کے سب سے بڑے توانائی کے تحفظ کے بحران کے درمیان ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ عالمی سرمایہ کاری کی حکمت عملیوں کو مکمل طور پر بدل دے گا، بالکل اسی طرح جیسے 1970 کی دہائی کے تیل کے بحران کے بعد توانائی کے شعبے میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو ملی تھیں۔‘‘

Published: undefined

آئی ای اے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیل پیدا کرنے والے اور استعمال کرنے والے دونوں طرح کے ممالک اب توانائی کے ذرائع اور تجارتی راستوں میں تنوع لانے کی سمت میں تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ اس کے تحت نئے پائپ لائن منصوبے اور سپلائی انفراسٹرکچر تیار کیے جا رہے ہیں۔ کئی ممالک اب درآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے گھریلو توانائی کے وسائل کے استعمال کو فروغ دے رہے ہیں، تاکہ مستقبل کے عالمی بحرانوں سے بہتر طریقے سے نمٹا جا سکے۔ ایجنسی کا ماننا ہے کہ ان مسلسل ہونے والے بحرانوں کی وجہ سے آنے والے سالوں میں توانائی کی سرمایہ کاری کی توجہ محفوظ سپلائی چین، متبادل راستوں اور گھریلو توانائی کے وسائل کی ترقی پر زیادہ رہے گی۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined