دیگر ممالک

اسرائیل میں شامل ہونا چاہتے ہیں لبنان کے کئی عیسائی گاؤں! نیتن یاہو کا بڑا دعویٰ

جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے کئی عیسائی اکثریتی گاؤں کے میئر اور مقامی افسران کو فون کر وارننگ دی تھی کہ وہ حزب اللہ کے جنگجوؤں سمیت کسی بھی اجنبی کو گاؤں میں نہ آنے دیں۔

نیتن یاہو، تصویر یو این آئی
نیتن یاہو، تصویر یو این آئی 

اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی لبنان کے کچھ عیسائی گاؤں اسرائیل میں شامل ہونا چاہتے ہیں، تاکہ انہیں حزب اللہ کے حملوں سے تحفظ فراہم ہو سکے۔ حالانکہ جن گاؤں کا ذکر کیا جا رہا ہے انہوں نے اس دعوے کو سرے سے خارج کر دیا ہے۔ اتوار (5 جولائی) کو ’فاکس نیوز‘ کے پروگرام میں نیتن یاہو نے کہا کہ جنوبی لبنان کے کچھ عیسائی گاؤں نے اسرائیل میں شامل ہونے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

Published: undefined

نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ اسرائیل ان گاؤں کو حزب اللہ سے بچاتا ہے اور دنیا کے دوسرے حصوں میں بھی عیسائیوں کی حفاظت کرتا ہے۔ حالانکہ انہوں نے کسی بھی گاؤں کا نام نہیں بتایا۔ اس کے جواب میں جنوبی لبنان کے مرجیون علاقے کے عیسائی گاؤں نے مشترکہ بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس کسی دوسرے ملک میں شامل ہونے کا نہ حق ہے اور نہ ہی ایسا فیصلہ لینے کا قانونی اختیار۔ گاؤں نے کہا کہ وہ اپنی زمین، اپنی قومی شناخت اور لبنان کے پرچم کے تئیں پوری طرح وفادار ہیں۔

Published: undefined

واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد حزب اللہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل پر راکٹ داغے تھے۔ اس کے بعد اسرائیل نے جنوبی لبنان میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے اور زمینی مہم شروع کر دی۔ فی الحال اسرائیلی فوج سرحد سے متصل کئی علاقوں پر قبضہ کیے ہوئے ہے۔

Published: undefined

جنگ کے دوران جنوبی لبنان کے کئی عیسائی گاؤں بھی گولی باری، فضائی حملوں، نقل مکانی اور بنیادی ڈھانچوں کے نقصان کا شکار ہوئے۔ اسرائیل کی جانب سے گاؤں خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا، لیکن کئی لوگوں نے اپنے گھر، چرچ اور کھیتوں کی حفاظت کے لیے وہیں رہنے کا فیصلہ لیا۔ حالانکہ کچھ گاؤں پوری طرح خالی ہو گئے۔ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے کئی عیسائی اکثریتی گاؤں کے میئر اور مقامی افسران کو فون کر وارننگ دی تھی کہ وہ حزب اللہ کے جنگجوؤں سمیت کسی بھی اجنبی کو گاؤں میں نہ آنے دیں۔

Published: undefined

اتوار کو ایک سرکاری پروگرام میں نیتن یاہو نے کہا کہ شمالی اسرائیل اور ملک شہریوں کی سیکورٹی کے لیے اسرائیلی فوج ضرورت پڑنے تک جنوبی لبنان میں تعینات رہے گی۔ امریکہ کی ثالثی کے باعث اسرائیل اور لبنان کے درمیان معاہدہ ہونے کے باوجود اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان تصادم اب بھی جاری ہیں۔

Published: undefined

’فاکس نیوز‘ کو دیے انٹرویو میں نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ اختلافات پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے رشتے مضبوط ہیں اور 99 فیصد معاملات میں دونوں کی رائے ایک جیسی ہوتی ہے۔ کبھی کبھی اختلاف ہوتے ہیں، لیکن بات چیت کے ذریعہ انہیں حل کر لیا جاتا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ نیتن یاہو جانتے ہیں کہ باس کون ہیں۔ حالیہ دنوں میں ٹرمپ نے لبنان اور ایران سے متعلق معاملات پر نیتن یاہو پر تنقید بھی کی ہے اور کہا ہے کہ وہ جلد واشنگٹن آ سکتے ہیں۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined