
حوثی باغی (فائل)، تصویر ’انسٹاگرام‘
یمن میں حوثیوں اور ’آرگنائزیشن آف اسلامک کو-آپریشن‘ (او آئی سی) کے مابین جنگ تیز ہو گئی ہے۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی فوج نے یمن کے مارب گورنریٹ کے آسمان میں سعودی عرب کا ایف-15 فائٹر جیٹ مار گرایا ہے۔ حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ یہ جنگی طیارہ ان کے خلاف چل رہے فوجی آپریشن کے دوران حملے کے لیے آیا تھا۔ یحییٰ سریع کے مطابق ایف-15 یمن کے مارب گورنریٹ علاقے میں حوثیوں کے حلاف ہوائی کارروائی کر رہا تھا۔ اسی دوران حوثی فوج نے طیارے کو نشانہ بنایا۔ حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ طیارے کو ہوا میں مار کرنے والی میزائل سے مار گرایا گیا۔ ایف-15 طیارہ سعودی عرب نے امریکہ سے خریدا تھا۔
الجزیرہ نے حوثی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ جنگی طیارہ مارب کے شمال مغرب میں واقع جبل ہیلان کے قریب گرایا گیا۔ حالانکہ او آئی سی کی جانب سے حوثیوں کے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اس لیے فی الحال سعودی جنگی طیارے کو مار گرائے جانے کے دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ حوثیوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ طیارہ گرائے جانے کے بعد اس کے ملبے کی تلاش میں پہنچنے والے مزید 2 سعودی ایف-15 جنگی طیاروں کو بھی ان کے جنگجوؤں نے نشانہ بنایا۔ حوثی ترجمان نے کہا کہ ان دونوں طیاروں کے ساتھ بھی ان کی فورسز کی جھڑپ ہوئی۔
حوثی فوج کے ترجمان نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران سعودی قیادت والے اتحاد کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں کا بھی دعویٰ کیا۔ یحییٰ سریع کے مطابق اس دوران سعودی جنگی طیاروں نے یمن کے مختلف علاقوں میں 450 سے زیادہ فضائی حملے کیے۔ ان حملوں میں تعز، لحج، الجوف، حجہ، مارب، صعدہ اور البیضاء کو نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ حوثی ترجمان نے کہا کہ ان فضائی حملوں میں عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ حوثیوں نے کہا ہے کہ وہ یمن کی فضائی حدود اور ان کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے کارروائی جاری رکھیں گے۔ یحییٰ سریع نے کہا ہے کہ ان کی فوج کسی بھی قسم کے حملے یا فضائی حدود کی خلاف ورزیوں کا مقابلہ کرین گے۔ یمن اور او آئی سی کے درمیان زمینی اور فضائی جنگ کا سلسلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ حوثیوں کے بڑھتے حملوں کے بعد سعودی عرب بھی فوجی کارروائی تیز کر رہا ہے۔ اب ایف-15 جنگی طیارہ گرائے جانے کا یہ دعویٰ فریقین کے مابین بڑھتی فوجی کارروائی کی عکاسی کرتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔