دیگر ممالک

جے شنکر کی عمان اور ایران کے وزرائے خارجہ سے ملاقات، خلیجی بحران پر تبادلۂ خیال

ایس جے شنکر نے ’ایکس‘ پر بتایا کہ جمعہ کے روز عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد بن حمود البوسعيدی نے انہیں خلیجی خطے میں جاری کشیدہ صورتحال سے متعلق تازہ معلومات فراہم کیں۔

<div class="paragraphs"><p>جے شنکر اور عراقچی کی ملاقات، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

جے شنکر اور عراقچی کی ملاقات، تصویر/آئی اے این ایس

 

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے عمان اور ایران کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی اور خلیجی بحران کی موجودہ صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔ واضح رہے کہ اس بحران کا اثر دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑ رہا ہے۔ جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بتایا کہ جمعہ کے روز عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد بن حمود البوسعيدی نے انہیں خلیجی خطے میں جاری کشیدہ صورتحال سے متعلق تازہ معلومات فراہم کیں۔ اس سے قبل دن میں جے شنکر نے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ملاقات کی۔ جے شنکر نے ’ایکس‘ پر کہا کہ دونوں رہنماؤں نے خلیج میں جاری تنازعہ سے متعلق تازہ پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا۔

آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمد و رفت دوبارہ شروع کرنے کے لیے کسی عبوری حل تک پہنچنے میں ایران اور عمان کا اہم کردار ہے۔ فروری میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کے بعد شروع ہونے والے بحران کی وجہ سے اس راستے سے بحری جہازوں کی آمد و رفت تقریباً ٹھپ ہو گئی ہے۔ جے شنکر کی یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی، جب جمعہ کے روز آبنائے  ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی۔ عراقچی نے آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے 7 روزہ منصوبہ پیش کیا اور ساتھ ہی طویل مدتی جنگ بندی پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔ خبروں کے مطابق ٹرمپ نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔

عمان اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کو کھولنے کے ایک منصوبے پر بھی بات چیت ہوئی تھی۔ اس کے تحت وہاں سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس لینے اور آمد و رفت کے لیے دو لین کا انتظام کرنے کی بات تھی۔ منصوبے کے مطابق بحری جہاز ایران کی جانب سے خلیج میں داخل ہوتے اور عمان کی جانب سے باہر نکلتے۔ ایران کے ساتھ اس طرح کے منصوبے پر بات چیت کرنے پر امریکی صدر ٹرمپ نے عمان کو دھمکی دی۔ آخرکار ایران بھی اس بات چیت سے پیچھے ہٹ گیا اور اس نے عمان کی تجویز کو مسترد کر دیا۔

کچھ بحری جہاز عمان کے ساحل سے گزرتے ہوئے آبنائے ہرمز کو عبور کرنے میں کامیاب رہے ہیں، جبکہ ایرانی بندرگاہیں امریکہ کی ناکہ بندی میں ہیں۔ تہران نے عمان کے راستے کا استعمال کرنے والے کچھ بحری جہازوں پر حملے بھی کیے ہیں۔ اس دوران جے شنکر نے بحری راستے بند کیے جانے اور بحری جہازوں اور ملاحوں پر حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے یہ بات 25 ممالک کے سفارت کاروں کے ساتھ ہونے والی ایک میٹنگ میں کہی۔ یہ میٹنگ بحری جہازوں اور ملاحوں کی سلامتی کے لیے بنائے گئے ’گروپ آف فرینڈز‘ کے آغاز کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔