
تصویر/آئی اے این ایس
اٹلی نے جمعہ (7 اگست) کو اسپین کی سرحدی نگرانی کو ہٹانے کی درخواست کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا کہ وہ قومی سلامتی اور سرحدی کنٹرول کے تعلق سے کسی بھی الٹی میٹم یا بیرونی دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ یورپ میں ویتنام نیوز ایجنسی کے نمائندے کے مطابق اٹلی نے کہا ہے کہ اسپین سے آنے والے مسافروں، خاص طور سے غیر یورپی یونین ممالک کے شہریوں پر عارضی طور پر پابندیاں عائد کرنے کے اپنے فیصلے پر کم از کم 15 اگست تک نظرثانی کرنے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
اٹلی کا موقف ہے کہ اس اقدام پر اسی صورت میں غور کیا جا سکتا ہے جب سیکورٹی خطرات، دہشت گردی، تارکین وطن کی نئی لہریں اور یورپ میں غیر قانونی ہجرت اب کوئی بڑا تشویش کا باعث نہ رہیں۔ اٹلی یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ یہ اقدام اسپین کے خلاف کسی تعصب پر مبنی نہیں ہے۔ اس سے قبل اسپین نے اٹلی سے یکم اگست سے نافذ سرحدی پابندیوں کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور انتباہ دیا تھا کہ اگر اٹلی نے اپنا فیصلہ نہ بدلا تو مناسب جوابی کارروائی کی جائے گی۔
اسپین اٹلی کے اس فیصلے کو ناجائز، یورپی یونین کے مفادات کے منافی اور ہسپانوی شہریوں کے خلاف امتیازی تصور کرتی ہے اور اس کا موقف ہے کہ اٹلی نے یکطرفہ اور شینگن بارڈر کوڈ کے خلاف کارروائی کی ہے۔ کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب اسپین نے 7 اگست کو اعلان کیا کہ وہ بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر اٹلی سے آنے والے مسافروں کے لیے سرحدی جانچ پڑتال عارضی طور پر دوبارہ شروع کرے گا۔ یہ اقدام 8 اگست سے نافذ ہو گیا ہے اور 7 ستمبر تک جاری رہنے کی امید ہے، اس دوران اچانک شناخت اور دستاویزات کی جانچ کی جائے گی۔
قابل ذکر ہے کہ مذکورہ تنازعہ شمالی افریقہ میں واقع اسپین کے ایک علاقے سیوٹا میں جاری تارکین وطن کے بحران سے پیدا ہوا ہے۔ اٹلی کا کہنا ہے کہ بارڈر کنٹرول نافذ کرنے کا فیصلہ اس وقت کیا گیا جب ہزاروں لوگوں نے غیر قانونی طور پر سیوٹا میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اسپین نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سیوٹا میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے لوگ شہر کی مخصوص حیثیت کی وجہ سے شینگن زون میں آزادانہ طور پر نقل و حرکت نہیں کر سکتے۔ دوسری جانب یورپی کمیشن (ای سی) نے 7 اگست کو میٹا اور ٹک ٹاک سے سیوٹا بحران سے متعلق گمراہ کن معلومات پر اپنی نگرانی سخت کرنے کی درخواست کی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔