
میلانیا ٹرمپ / فائل تصویر / آئی اے این ایس
امریکہ کی خاتون اول میلانیا ٹرمپ کا روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں پر حیرت انگیز بیان سامنے آیا ہے۔ میلانیا نے اولیشکی میں جنگ بندی کے حوالے سے اپنے کردار کا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ روس اور یوکرین کے ساتھ ان کی بات چیت وسیع، پیشہ ورانہ اور تعاون پر مبنی رہی۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’روس اور یوکرین کے ساتھ میری بات چیت کافی وسیع اور پیشہ ورانہ رہی ہے۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے وائٹ ہاؤس میں اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ ’’ہم نے جنگ کی جگہ انسانیت کو منتخب کیا ہے۔ ہم سب مل کر عارضی جنگ بندی سے کہیں زیادہ پائیدار حل نکال سکتے ہیں۔‘‘ اپنے خطاب کے دوران میلانیا ٹرمپ نے لیڈران سے اپیل کی کہ وہ ابتدائی پیش رفت کو مستقل امن میں تبدیل کریں۔
امریکہ کی خاتون اول نے کہا کہ دونوں ممالک نے 23 اکتوبر کو معاہدوں پر دستخط کیے تھے۔ انہوں نے دونوں فریقوں کے لیڈران سے اپیل کی تھی کہ وہ جنگ کے اختلافات سے بالاتر ہو کر معصوم لوگوں کی جانوں کو ترجیح دیں۔ میلانیا نے کہا کہ ہم مل کر عارضی جنگ بندی سے بھی زیادہ پائیدار امن کی سمت کام کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
میلانیا ٹرمپ نے بتایا کہ ان کے اس کردار کو تحریری معاہدوں میں درج کیا گیا ہے۔ یہ معاہدے روس اور یوکرین دونوں نے تیار کیے اور ان پر دونوں ممالک نے دستخط کیے۔ اس کام کے لیے میلانیا اور ان کے نمائندے مارک بیک مین نے رابطے کے انہی ذرائع کا استعمال کیا، جو اس سے پہلے بچوں کو روس اور یوکرین میں ان کے اہل خانہ سے ملانے کے لیے قائم کیے گئے تھے۔ دونوں ممالک کے انسانی امور، فوجی اور سرکاری عہدیداروں نے پوری محنت کے ساتھ کام کیا اور اس کارروائی کے ہر پہلو میں تال میل قائم رکھا۔
خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں پر بات کرتے ہوئے امید کا پیغام دیا۔ انہوں نے دونوں فریقوں سے اپیل کی کہ وہ جنگ کے اختلافات سے بالاتر ہو کر معصوم لوگوں کی جانوں کو ترجیح دیں۔ انھوں نے جنگ بندی کے تعلق سے یہ بھی واضح کیا کہ ’’ہم نے جنگ کے بجائے انسانیت کو منتخب کیا ہے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔