
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ (فوٹو سوشل میڈیا)
امریکی اخبار ’وال اسٹریٹ جرنل‘ نے جمعہ کو اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ ایک اہم خفیہ اطلاع شیئر کی ہے۔ اس خفیہ اطلاع میں کہا گیا ہے کہ ایران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی مبینہ سازش تیار کر رہا ہے۔ اگر اس خفیہ اطلاع کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی پہلے ہی انتہائی عروج پر ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس نے امریکی حکام کو رواں ہفتہ یہ اطلاع فراہم کی، جس کے بعد امریکی سیکورٹی اور انٹیلی جنس اداروں نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر اپنی نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔ تاہم اب تک نہ تو امریکی حکومت اور نہ ہی اسرائیلی حکام کی جانب سے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق کی گئی ہے، جبکہ ایران کی طرف سے بھی اس معاملے پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
دوسری طرف امریکی نشریاتی ادارہ ’سی این این‘ نے بھی ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے امریکہ کو ایسی خفیہ معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ سی این این کے مطابق امریکی انٹیلی جنس ادارے اس ممکنہ خطرے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور اس حوالے سے مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی قدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد سے ایران کے بعض حلقے انتقامی کارروائی کی بات کرتے رہے ہیں۔ قاسم سلیمانی جنوری 2020 میں عراق کے شہر بغداد کے قریب ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔ اس وقت امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت جاری تھی اور اسی حملے کا حکم ٹرمپ نے دیا تھا۔ اسی وجہ سے ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا ذمہ دار ڈونالڈ ٹرمپ کو قرار دیتی ہے۔
’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس کا خیال ہے کہ ایران اب بھی قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کی کوشش کر سکتا ہے۔ تاہم رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی حکام اس امکان پر بھی غور کر رہے ہیں کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کی جانب سے اس نوعیت کی اطلاعات امریکہ کی ایران سے متعلق پالیسی اور ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلوں کو متاثر کرنے کے مقصد سے بھی پیش کی جا سکتی ہیں۔
بہرحال، ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث ایسی اطلاعات خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا سکتی ہیں۔ اگرچہ اس مبینہ سازش کے حوالے سے ابھی تک کوئی آزاد یا باضابطہ ثبوت عوام کے سامنے نہیں آیا، تاہم امریکی سیکورٹی ادارے کسی بھی ممکنہ خطرے کو نظر انداز نہیں کر رہے۔
دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری فوجی اور سفارتی کشیدگی کے سبب مشرق وسطیٰ کی صورتحال مسلسل غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔ ایسے میں اسرائیل کی جانب سے فراہم کی گئی اس مبینہ خفیہ اطلاع نے عالمی سطح پر نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ مبصرین کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ امریکہ، اسرائیل یا ایران اس معاملے پر مزید کوئی سرکاری مؤقف یا ثبوت پیش کرتے ہیں یا نہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔