دیگر ممالک

ایران: پٹرول کی قیمت میں اضافہ، 110 لیٹر سے زیادہ استعمال پر ادا کرنی ہوگئی نئی قیمت

حکومت نے بنیادی طور پر ان لوگوں کو نشانہ بنایا ہے، جو اپنی گاڑیوں میں بہت زیادہ ایندھن استعمال کرتے ہیں۔ منگل کے روز ایران میں نئی قیمتیں نافذ ہو جائیں گی، جس کے بعد صارفین کا بجٹ متاثر ہو سکتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی وجہ سے عوام کو بے تحاشا مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ طویل عرصے سے امریکہ کی سخت اقتصادی پابندیوں کا سامنے کر رہے ایران نے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری خزانے پر بڑھ رہے دباؤ کے پیش نظر ایران نے اپنے ملک میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ حالانکہ یہ فیصلہ سبھی شہریوں پر یکساں نافذ نہیں ہوگا۔ حکومت نے بنیادی طور پر ان لوگوں کو نشانہ بنایا ہے، جو اپنی گاڑیوں میں بہت زیادہ ایندھن استعمال کرتے ہیں۔ منگل کے روز سے ایران میں نئی قیمتیں نافذ ہو جائیں گی، جس کے بعد صارفین کا بجٹ متاثر ہو سکتا ہے۔

ایرانی حکومت کے ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے اتوار کے روز ریاستی میڈیا کے ذریعہ اس نئے فیصلے کی تفصیلی اطلاع دی۔ انہوں نے بتایا کہ جو بھی شہری مہینے میں 110 لیٹر سے زیادہ گیسولین (پٹرول) کا استعمال کریں گے، تو انہیں اب نئے نرخوں کے مطابق ادائیگی کرنی ہوگی۔ حکومت نے شہریوں کا خاص خیال رکھا ہے، تاکہ ملک میں مہنگائی کا بوجھ اچانک نہ بڑھے۔ پہلے 2 زمروں کے تحت دستیاب 110 لیٹر ایندھن کے نرخوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

موجودہ اصول و ضوابط کے مطابق کوئی بھی موٹر ڈرائیور پہلے 60 لیٹر تک کا پٹرول 15000 ریال فی لیٹر کے حساب سے خرید سکتا ہے، اس کے بعد اگر اسے اور ایندھن چاہئے تو اگلے 50 لیٹر کے لیے 30000 ریال فی لیٹر قیمت ادا کرنی ہوگی۔ مہنگے پیٹرول کا خمیازہ صرف 110 لیٹر ماہانہ حد پار کرنے والوں کو ہی برداشت کرنا پڑے گا، انہیں اب 100000 ایرانی ریال فی لیٹر قیمت ادا کرنی ہوگی۔ فری مارکیٹ ریٹ کے حساب سے یہ تقریباً 4 امریکی سینٹ کے برابر ہے۔ واضح رہے کہ پوری دنیا کے مقابلے ایران میں پٹرول کافی کفایتی سمجھا جاتا ہے، لیکن موجودہ اقتصادی صورتحال کے مدنظر یہ ریاعت آہستہ آہستہ ختم کی جا رہی ہے۔

جنگ نے ایران کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ امریکی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے ملک کو مسلسل ریونیو کا کافی نقصان ہو رہا ہے۔ ان پریشانیوں کی وجہ سے ہی ایرانی حکومت کو سخت قدم اٹھانا پڑا ہے۔  اوپیک (او پی ای سی) کا ایک اہم رکن ہونے کے باوجود ایران تیزی سے بڑھتے ہوئے گھریلو مطالبات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایسے سخت اقدامات کر رہا ہے۔ اس سے قبل گزشتہ برس دسمبر میں بھی حکومت نے سبسڈی والے گیسولین کی قیمتوں میں جزوی طور پر اضافہ کیا تھا، تاکہ ایندھن کی کھپت کو قابو میں کیا جا سکے۔ ایران میں پیٹرول کی قیمتوں میں کوئی بھی تبدیلی ہمیشہ سے ایک انتہائی حساس مسئلہ رہا ہے۔ 2019 میں جب حکومت نے ایندھن کی قیمت اچانک بڑھائی تھی، تب پورے ملک میں سخت احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے، اسی وجہ سے حکومت نے قیمت بڑھانے کا فیصلہ التوا میں رکھا تھا۔ فاطمہ مہاجرانی کا واضح کہنا ہے کہ یہ نیا اضافہ صرف موجودہ حالات کی وجہ سے مجبوری میں کیا گیا ہے۔ حکومت پوری کوشش کر رہی ہے کہ ملک میں پھر ایسا کوئی احتجاجی مظاہرہ نہ ہو۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔