
علامتی تصویر، سوشل میڈیا
ایران میں انٹرنیٹ کا بحران مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے اور اب یہ دنیا کے طویل ترین ’نیٹورک شَٹ ڈاؤن‘ میں شامل ہو گیا ہے۔ انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ ’نیٹ بلاکس‘ کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ پر پابندی 1000 گھنٹوں سے زیادہ ہو چکی ہے۔ مارچ کے آغاز سے کنکشن تقریباً 1 فیصد تک محدود ہو گیا ہے۔ اس طویل بلیک آؤٹ، یعنی نیٹورک شَٹ ڈاؤن نے عام لوگوں کی ڈیجیٹل رسائی اور مواصلاتی نظام کو شدید متاثر کیا ہے۔ تشویش ناک بات یہ ہے کہ حالات معمول پر آنے کے آثار بھی دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔
Published: undefined
انٹرنیٹ مانیٹرنگ ایجنسی ’نیٹ بلاکس‘ کے مطابق ایران میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ 1000 گھنٹوں سے تجاوز کر چکا ہے۔ ایجنسی نے ہفتہ کے روز ڈاٹا جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں نیٹورک کنیکٹیویٹی تقریباً مکمل طور پر بند رہی۔ رپورٹ میں مطلع کیا گیا ہے کہ مارچ کے آغاز سے انٹرنیٹ کی سطح گر کر تقریباً 1 فیصد رہ گئی تھی اور 10 اپریل تک اسی سطح پر برقرار رہی۔ نیٹ بلاکس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک گراف بھی شیئر کیا، جس میں یہ گراوٹ واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ یہ صورتحال جدید ڈیجیٹل تاریخ کے طویل ترین انٹرنیٹ بلیک آؤٹس میں شمار کی جا رہی ہے۔
Published: undefined
نیٹ بلاکس کا کہنا ہے کہ ملک میں نیٹورک رسائی ایک فیصد تک سکڑنے سے عام لوگوں کی ڈیجیٹل خدمات تقریباً معطل ہو گئی ہیں۔ بیشتر صارفین صرف محدود داخلی نیٹورک ہی استعمال کر پا رہے ہیں اور بیرونی دنیا سے رابطہ تقریباً مکمل طور پر منقطع ہے۔ اس طویل شٹ ڈاؤن نے آن لائن خدمات، مواصلات اور معلومات کے تبادلے کو بری طرح متاثر کیا ہے اور لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
Published: undefined
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ انٹرنیٹ شٹ ڈاؤن 28 فروری سے شروع ہوا تھا۔ بعض بین الاقوامی میڈیا اور نیٹ بلاکس کی سابقہ رپورٹس کے مطابق یہ صورتحال امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی اور حملوں کے بعد پیدا ہوئی۔ ان حملوں میں ہزاروں افراد کی ہلاکت کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں۔ اس کے بعد سے ایران میں انٹرنیٹ پابندیاں مسلسل جاری ہیں۔ یہ بلیک آؤٹ اب 40 دنوں سے زیادہ عرصے تک پھیل چکا ہے اور اسے اب تک کے طویل ترین قومی انٹرنیٹ شٹ ڈاؤنز میں شمار کیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined