
’میٹا‘ پر بچوں کو سوشل میڈیا کی لت لگانے کا سنگین الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔ اس معاملہ میں میٹا کو مقدمہ کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تازہ ترین اطلاع کے مطابق امریکہ میں بچوں اور نوعمروں کی حفاظت سے متعلق ایک بڑے مقدمے کو ختم کرنے کے لیے میٹا نے ایک سمجھوتہ کیا ہے۔ میٹا اس معاملے میں تقریباً 17 ارب ڈالر ادا کرے گی اور بچوں کے لیے اپنی ایپس میں کئی بڑی تبدیلیاں گی۔ ان میں فیس بک اور انسٹاگرام پر ملا کر دن میں 2 گھنٹے کی ڈیفالٹ حد اور رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک استعمال پر پابندی شامل ہے۔
دراصل امریکہ کی کئی ریاستوں کے اٹارنی جنرل نے 2023 میں میٹا پر مقدمہ کیا تھا۔ الزام تھا کہ کمپنی نے فیس بک اور انسٹاگرام میں ایسے فیچر بنائے ہیں، جن سے بچوں اور نوعمروں کے ذریعہ ان ایپس کا استعمال ضرورت سے زیادہ بڑھتا ہے۔ ریاستوں کا کہنا تھا کہ اس سے بچوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کمپنی پر لوگوں اور والدین کو ان خطرات کے بارے میں گمراہ کرنے کا بھی الزام لگا۔ اس معاملے کی سماعت اگست 2026 میں کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت میں شروع ہوئی تھی۔ سمجھوتہ ہونے کے بعد اب یہ مقدمہ ٹرائل کے طور پر آگے نہیں چلے گا، تاہم حتمی منظوری عدالت کو دینی ہے۔
اس رقم کو لے کر الگ الگ اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ کیلیفورنیا کے اٹارنی جنرل کے مطابق سمجھوتے میں ریاستوں کو 17 ارب ڈالر تک مل سکتے ہیں۔ میٹا نے اپنے بیان میں کل ادائیگی تقریباً 18 ارب ڈالر بتائی ہے۔ غیر ملکی میڈیا نے سمجھوتے کی زیادہ سے زیادہ رقم تقریباً 16.68 ارب ڈالر بتائی ہے۔ اس رقم کا بڑا حصہ طے شدہ ہے، جبکہ تقریباً 5 ارب ڈالر سے زیادہ حصہ کچھ شرائط پر منحصر ہے۔ یہ اضافی رقم تبھی جاری ہوگی جب یوٹیوب اور ٹک ٹاک بھی بچوں کے لیے اسی طرح کے حفاظتی اقدامات کریں اور طے شدہ رقم ادا کریں۔ میٹا نے کہا ہے کہ وہ اس سمجھوتے کے لیے 2026 کی تیسری سہ ماہی میں تقریباً 10 ارب ڈالر کا قانونی خرچ درج کرے گی۔
بہرحال، فیس بک اور انسٹاگرام میں سب سے بڑا بدلاؤ 18 سال سے کم عمر صارفین کے لیے ہوگا۔ ان کے لیے دن میں 2 گھنٹے کی حد طے کی جائے گی۔ یعنی فیس بک اور انسٹاگرام کو ملا کر روزانہ 2 گھنٹے کی ڈیفالٹ حد ہوگی۔ اسے ہٹانے کے لیے والدین کی اجازت ضروری ہوگی۔ دونوں ایپس پر گزارا گیا وقت اسی مجموعی حد میں شمار ہوگا۔ ایک بڑی تبدیلی یہ کی جائے گی کہ رات میں ایپس بند رہیں گی۔ دی گئی جانکاری کے مطابق رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک نوعمر فیس بک اور انسٹاگرام کا استعمال نہیں کر سکیں گے۔ علاوہ ازیں صبح 8 بجے سے دوپہر 3 بجے تک ڈیفالٹ طور پر نوٹیفکیشن میوٹ رہیں گے۔ تاہم براہ راست پیغامات اور سیکورٹی سے متعلق ضروری الرٹ آتے رہیں گے۔
ایک خاص تبدیلی یہ بھی کی جائے گی کہ مسلسل استعمال کے دوران نوعمروں کو باقاعدگی سے وقفہ لینے کے لیے ریمائنڈر دکھائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ عمر کی جانچ کے لیے زیادہ سخت ٹیکنالوجی، آسان پیرنٹل کنٹرول اور بچوں کو نقصان پہنچانے والے مواد سے بچانے کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات نافذ کیے جائیں گے۔ کچھ ایسے فیچر بھی محدود کیے جائیں گے جن پر بچوں کی ذہنی صحت کو لے کر سوال اٹھتے رہے ہیں، جیسے پبلک لائک کاؤنٹ اور کچھ بیوٹی فلٹرز۔
اس درمیان ’میٹا‘ کا کہنا ہے کہ صرف اس کی ایپس پر سختی کرنے سے مسئلہ پوری طرح حل نہیں ہوگا، کیونکہ بچے دوسرے پلیٹ فارم پر جا سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے سمجھوتے کی باقی رقم کا ایک حصہ یوٹیوب اور ٹک ٹاک کی جانب سے اقدامات کرنے پر منحصر ہے۔ دونوں کمپنیوں کو بچوں کے لیے ایک گھنٹے کی روزانہ حد، رات میں استعمال پر پابندی اور عمر کی جانچ جیسے اقدامات نافذ کرنے ہوں گے۔ انہیں میٹا کے برابر طے شدہ رقم بھی ادا کرنی ہوگی۔
بہرحال، میٹا کا کہنا ہے کہ نوعمروں کے لیے محفوظ آن لائن تجربہ اس کی ترجیح ہے۔ سمجھوتے میں میٹا نے کسی غلطی یا قانونی ذمہ داری کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سمجھوتے کی کامیابی اس بات پر منحصر کرے گی کہ دوسرے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارم بھی اسی طرح کے اقدامات کریں۔ یہ سمجھوتہ ابھی عدالت کی منظوری پر منحصر ہے۔ کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت میں حتمی منظوری کے بعد ہی سمجھوتے کی شرائط نافذ ہوں گی۔ میٹا کی قانونی مشکلات اس سے پوری طرح ختم نہیں ہوتی ہیں۔ کمپنی کے خلاف بچوں اور سوشل میڈیا سے متعلق دوسرے مقدمے بھی جاری ہیں۔
اس امریکی سمجھوتے کا ہندوستان یا دیگر کسی ملک میں براہ راست قانونی اثر نہیں ہوگا، لیکن بچوں کی آن لائن حفاظت کو لے کر یہ فیصلہ دنیا بھر کی ٹیک کمپنیوں پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ ہندوستان میں بھی بچوں کے ڈاٹا اور آن لائن حفاظت کو لے کر قواعد بنائے گئے ہیں۔ اس لیے آگے یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ عمر کی جانچ، پیرنٹل کنٹرول اور بچوں کے اسکرین ٹائم جیسے اقدامات ہندوستانی بازار میں کس طرح نافذ کیے جاتے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔