دیگر ممالک

جرمنی میں نجی یونیورسٹیوں کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت

گزشتہ برس جرمن نجی یونیورسٹیوں میں طلبا کی تعداد میں بیس سال قبل کے مقابلے میں بارہ گنا اضافہ دیکھا گیا۔ جرمنی میں سرکاری یا پبلک یونیورسٹیاں ہمیشہ ملکی اور غیر ملکی طلبا میں مقبول رہی ہیں ۔

<div class="paragraphs"><p>فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس

 

جرمنی میں نجی یونیورسٹیاں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں۔ اس بات کا انکشاف وفاقی جرمن شماریاتی ادارے کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ ایک رپورٹ میں کیا گیا۔ اس رپورٹ کے مطابق  22-2021 کے دوران  ہر دس میں سے ایک اسٹوڈنٹ نے موسم سرما کے سمسٹر میں کسی نہ کسی نجی یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ مجموعی طور پر نجی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی تعداد  342,600 تھی، جو  20 سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 12 گنا زیادہ ہے۔ تب نجی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم طلبا کی تعداد  صرف 29,400  تھی۔

Published: undefined

اسی عرصے میں تمام یونیورسٹیوں میں طلبا کی کل تعداد 57.5 فیصد بڑھ کر 1.9 ملین سے 2.9 ملین تک پہنچ گئی۔ نتیجہ یہ کہ پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے طلبا کا تناسب تقریباً دس گنا بڑھ گیا ہے۔ ایپلائیڈ سائنسز کی نجی یونیورسٹیاں سب سے زیادہ مقبول ہیں، جن میں 90.5 فیصد طلبا زیر تعلیم ہیں۔

Published: undefined

جرمنی میں نجی یونیورسٹیوں کی تعداد برسوں سے بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ 20 سالوں میں نجی یونیورسٹیوں کی تعداد 2001-02 کے سرمائی سمسٹر میں 49 سے بڑھ کر  22-2021 کے سرمائی سمسٹر میں 114 ہو چکی تھی۔ نجی یونیورسٹیوں میں طالب علموں اور اساتذہ کی تعداد کا تناسب سرکاری یونیورسٹیوں کے مقابلے میں کم سازگار ہے۔

Published: undefined

مثال کے طور پر 22-2021 کے دوران نجی یونیورسٹیوں میں موسم سرما کے سمسٹر کے دوران ایک استاد نے اوسطاً 36.4 طلبا کی تعلیمی یا تحقیقی نگرانی کی جبکہ سرکاری یونیورسٹیوں میں ایک استاد کی زیر نگرانی طلبا کی تعداد صرف 14.6بنتی تھی۔

Published: undefined

22-2021 کے دوران ایپلائیڈ سائنسز کی نجی یونیورسٹیوں میں زیادہ تر طلبا نے قانون، معاشیات اور سماجی علوم کے شعبوں میں داخلہ لیا۔ اس کے بعد انجینیئرنگ اور  چب انسانی یا ہیلتھ سائنسز  کے شعبے آتے تھے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined