دیگر ممالک

یمن میں حوثی باغیوں پر ٹوٹا امریکہ کا قہر، ایئر اسٹرائیک میں 74 افراد جاں بحق، 171 دیگر زخمی

امریکی فوج کی سنٹرل کمانڈ نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد حوثی باغیوں کے ایندھن اور اقتصادی وسائل کو کمزور کرنا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>ایئر اسٹرائیک کی علامتی تصویر، اے آئی</p></div>

ایئر اسٹرائیک کی علامتی تصویر، اے آئی

 

یمن میں امریکی ایئر اسٹرائیک کے سبب تباہی کا منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق راس عیسیٰ تیل بندرگاہ پر امریکہ کی جانب سے کیے گئے ہوائی حملوں میں کم از کم 74 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ یہ جانکاری یمن میں فعال حوثی باغیوں نے دی ہے اور بتایا ہے کہ امریکی ایئر اسٹرائیک میں 171 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

Published: undefined

بتایا جا رہا ہے کہ یہ امریکی ایئر اسٹرائیک جمعرات کی دیر شب، یعنی 18 اپریل کو کیا گیا۔ اس وقت لوگ بندرگاہ پر کام کر رہے تھے۔ امریکی فوج کی سنٹرل کمانڈ نے اس حملے کی تصدیق بھی کر دی ہے۔ سنٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ اس حملے کا مقصد حوثی باغیوں کے ایندھن اور اقتصادی وسائل کو کمزور کرنا تھا۔

Published: undefined

الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق حملے میں بندرگاہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں کو خصوصی طور سے ہدف بنایا گیا ہے۔ بندرگاہ ملازمین اور ٹرک ڈرائیور بھی اس حملے کی زد میں آئے ہیں۔ دراصل راس عیسیٰ بندرگاہ یمن کی معیشت اور انسانی امداد فراہمی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل رہا ہے، جہاں سے ملک کے 70 فیصد سے زائد درآمدات اور 80 فیصد انسانی امداد آتے ہیں۔ حملے کے بعد اس علاقہ میں زبردست احتجاج دیکھنے کو مل رہا ہے۔ حوثی باغی حامی ال مسیرا ٹی وی نے دھماکہ اور نقصان کی ویڈیو جاری کی ہے۔ ویڈیو میں جلتے ہوئے ٹرک، ملبہ اور شہریوں کی لاشیں دکھائی دے رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس حملے میں کئی بندرگاہ ملازمین زخمی ہوئے ہیں۔

Published: undefined

حوثی افسر محمد ناصر الاطیفی نے کہا کہ یہ حملہ یمنی عوام کو غزہ کی حمایت سے نہیں روک سکتا، بلکہ اس سے ان کا عزم مزید مضبوط ہوگا۔ حملے کے کچھ گھنٹوں بعد اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے یمن سے داغی گئی ایک میزائل کو روک لیا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined