
فائل تصویر آئی اے این ایس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر جرات مندانہ دعویٰ کیا ہے: ’’اگر امریکہ چاہتا تو وہ ایک ہی حملے میں علی خامنہ ای کے جنازے کے لیے جمع ہونے والے تمام اعلیٰ ایرانی رہنماؤں کو مستقل طور پر ختم کر سکتا تھا۔‘‘ تاہم انہوں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ وہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔مبصرین کی رائے ہے کہ ایران کا کیسا رد عمل ہوتا شائد امریکہ کو اس کا معلوم تھا۔
Published: undefined
اس دوران ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ ہم ایک ہی مرتبہ میں سب کو ختم کر سکتے تھے لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے کیونکہ اس کے بعد ہمارے پاس بات کرنے کے لیے کوئی نہیں بچے گا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت سمجھوتے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور کسی بھی قیمت پر مذاکرات شروع کرنا چاہتا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق امریکہ کی ترجیح صرف فوجی کارروائی نہیں بلکہ جوہری معاملے پر ایران کے ساتھ بات چیت کے امکانات کو برقرار رکھنا ہے۔
Published: undefined
فی الحال، دونوں فریقوں نے کچھ دنوں کے لیے بات چیت روکنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی آخری رسومات ابھی باقی ہیں۔ اس گفتگو کے دوران انہوں نے اپنے پہلے والے دعوے کو دہرایا کہ خامنہ ای جنگ کے پہلے ہی دن امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی میں مارے گئے تھے۔
Published: undefined
پورے ایرانی واقعے کی عکاسی کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ وہ علی خامنہ ای کے جنازے میں بڑی تعداد میں لوگوں کی موجودگی سے حیران ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ وہاں کے لوگ خامنہ ای سے نفرت کرتے ہیں، اس لیے اتنے بڑے ہجوم کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہاں موجود لوگوں کے آنسو شاید حقیقی نہ ہوں۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined