دیگر ممالک

مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کا اثر: ورلڈ بینک کے پاس مدد مانگنے پہنچے دنیا کے 27 ممالک

تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے کئی ممالک کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ انرجی مارکیٹ میں عدم استحکام کے باعث سپلائی چین بھی متاثر ہوئی ہے اور کھاد کی سپلائی بھی رک رہی ہے، جس سے زراعت پر اثر پڑ رہا ہے۔

عالمی بینک، تصویر آئی اے این ایس
عالمی بینک، تصویر آئی اے این ایس 

ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران جنگ شروع ہونے کے بعد دنیا کے 27 ممالک نے ایمرجنسی فنڈ کا مطالبہ کیا ہے۔ ان ممالک نے ایسے نظام کو نافذ کرنے کا عمل شروع کیا ہے جن کے ذریعہ ضرورت پڑنے پر وہ فوراً عالمی بینک سے فنڈ حاصل کر سکیں۔ ’رائٹرز‘ کو موصول ایک اندرونی دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ان ممالک کے نام اور مانگی گئی رقم کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہیں۔ ورلڈ بینک نے بھی اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

Published: undefined

رپورٹ کے مطابق 28 فروری سے مشرق وسطی میں کشیدگی میں اضافے کے بعد 3 ممالک نے نئے ’بحرانی امدادی نظام‘ کو منظوری دی ہے، جبکہ باقی ممالک ابھی اس عمل کو مکمل کر رہے ہیں۔ ایران جنگ کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑ رہے ہیں۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے کئی ممالک کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ انرجی مارکیٹ میں عدم استحکام کی وجہ سے سپلائی چین بھی متاثر ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ کھاد کی سپلائی بھی رک رہی ہے، جس سے زراعت پر اثر پڑ رہا ہے۔

Published: undefined

کینیا اور عراق نے تصدیق کی ہے کہ انہوں ںے عالمی بینک سے فوری معاشی مدد مانگی ہے۔ کینیا میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں، جبکہ عراق کو تیل سے ہونے والی کمائی میں بھاری گراوٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ 27 ممالک ان 101 ممالک میں شامل ہیں جو پہلے سے تیار ’کرائسس فنڈ سسٹم‘ سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ان میں سے 54 ممالک ریپڈ رسپانس اسکیم کا حصہ ہیں۔ اس منصوبہ کے تحت کوئی بھی ملک اپنے منظور شدہ لیکن اب تک استعمال نہ کیے گئے فنڈ کا 10 فیصد حصہ فوری طور پر استعمال کر سکتا ہے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر بینک 20 سے 25 ارب ڈالر تک کی فوری معاشی مدد فراہم کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرانے پروجیکٹس کے بچے ہوئے فنڈ اور دوسرے منصوبوں کو ملا کر آئندہ 6 ماہ میں یہ امداد 60 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ آگے چل کر یہ رقم 100 ارب ڈالر تک بھی جا سکتی ہے۔ جبکہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے کہا تھا کہ تقریباً 12 ممالک آئی ایم ایف سے بھی مدد مانگ سکتے ہیں۔ حالانکہ ابھی بہت کم ممالک نے باضابطہ طور پر درخواست دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کئی ممالک آئی ایم ایف کے بجائے ورلڈ بینک سے مدد لینے کو ترجیح دے رہے ہیں، کیونکہ آئی ایم ایف عام طور پر اخراجات میں کٹوتی جیسی سخت شرائط عائد کرتا ہے۔ اس سے پہلے سے پریشان حال ممالک میں معاشی اور سماجی بحران مزید بڑھ سکتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined