دیگر ممالک

امریکہ میں سمندری طوفان کا خطرہ لاحق، کرینا اور ایڈوارڈ سے سمندری ساحلوں کو خطرہ لاحق

میکسیکو کی خلیج میں بنا ٹراپیکل اسٹورم ایڈوارڈ ٹیکساس اور لوزیانا کی جانب بڑھا ہے، وہیں بحرالکاہل میں لوویل اور کرینا نے بھی ماہرین موسمیات کی تشویش بڑھا دی ہے۔

سمندری طوفان، تصویر آئی اے این ایس
سمندری طوفان، تصویر آئی اے این ایس 

امریکہ کے جنوبی حصوں میں موسم نے ایک بار پھر تیور تبدیل کیا ہے۔ میکسیکو کی خلیج میں بنا ٹراپیکل اسٹورم ’ایڈوارڈ‘ ٹیکساس اور لوزیانا کی جانب بڑھا ہے، وہیں بحرالکاہل میں لوویل اور کرینا نے بھی ماہرین موسمیات کی تشویش بڑھا دی ہے۔ ایک طرف شدید بارش اور سیلاب کا خطرہ ہے، تو دوسری طرف سمندر میں طوفان تیزی سے مضبوط ہو رہا ہے۔ ایڈوارڈ پیر کے روز میکسیکو کی خلیج میں بنا اور اس کے بعد ٹیکساس کے ساحل سے ٹکرانے کا خدشہ تھا۔ منگل کی صبح یہ لوزیانا کے کیمرون سے تقریباً 85 میل اور ٹیکساس کے پورٹ آرتھر سے تقریباً 115 میل دور تھا۔ اس وقت طوفان کی زیادہ سے زیادہ رفتار تقریباً 64 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔

محکمۂ موسمیات نے گریٹر ہیوسٹن علاقے میں تقریباً 3 سے 6 انچ بارش کا امکان ظاہر کیا ہے۔ بالائی ساحلی علاقے میں کچھ مقامات پر 9 انچ تک بارش کا امکان ہے۔ کم وقت میں بہت تیز بارش ہونے کی وجہ سے نشیبی اور شہر کے علاقوں میں اچانک سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ٹیکساس کے افسران نے لوگوں کو ہوشیار رہنے کے لیے کہا ہے۔ ریلیف اور ایمرجنسی ٹیموں کو بھی تیار رکھا گیا ہے۔ آسمانی بجلی گرنے سے آگ پھیلنے کے خطرے کے پیش نظر بعض علاقوں میں خشک جھاڑیوں اور پودوں کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔

بحرالکاہل میں ٹراپیکل اسٹورم لوویل ہوائی ہیلو سے تقریباً 690 میل جنوب مشرق میں تھا، اور ہوا کی رفتار تقریباً 112 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ ماہرین موسمیات کے مطابق یہ بدھ تک تیزی سے مضبوط ہو کر بڑے طوفان کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ وہیں ہریکین کرینا پہلے ہی کیٹیگری-4 کا طوفان بن چکا ہے۔ اس کی ہوا کی رفتار تقریباً 209 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ حالانکہ یہ زمین سے کافی دور ہے اور فی الحال کسی ساحلی علاقے کو اس سے خطرہ نہیں بتایا گیا ہے۔ بحر اوقیانوس میں ’ٹراپیکل اسٹورم ڈولی‘ کے رہ گئے حصوں سے بھی کیریبین میں بارش اور گرج چمک ہوئی۔ اس طرح امریکہ کے قریب کئی مقامات پر موسم کی صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔