دیگر ممالک

نیپال کا ’جین زی‘ احتجاج کیسے شروع ہوا؟ قومی انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ میں حیران کن انکشافات

قومی انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ میں حکمراں جماعت ’راشٹریہ سوتنتر پارٹی‘ (آر ایس پی) کے 15 اراکین پارلیمنٹ کے خلاف آتش زنی، توڑ پھوڑ اور اشتعال انگیز بیانات دینے کے الزام میں تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے

<div class="paragraphs"><p>نیپال میں جین-زی تشدد کی فائل تصویر / آئی اے این ایس</p></div>

نیپال میں جین-زی تشدد کی فائل تصویر / آئی اے این ایس

 
IANS

نیپال میں گزشتہ سال 8 اور 9 ستمبر کو ہونے والے ’جین زی پروٹیسٹ‘ کو لے کر قومی انسانی حقوق کمیشن نے بدھ (27 مئی) کو اپنی طویل انتظار کے بعد تیار کی گئی تحقیقاتی رپورٹ پبلک کر دی ہے۔ اس رپورٹ کے سامنے آتے ہی نیپال کی سیاست میں زبردست بھونچال آ گیا ہے۔ رپورٹ میں ملک کے سابق وزرائے اعظم، وزراء، اراکین پارلیمنٹ اور سیکورٹی فورسز کے اعلیٰ افسران پر انتہائی سنگین الزامات لگاتے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔

Published: undefined

قومی انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ میں سب سے بڑا دھچکا سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی اور سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کو لگا ہے۔ کمیشن نے ان دونوں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور انتظامی طاقت کے غلط استعمال کا الزام لگاتے ہوئے اگلے 5 سال تک ان کے انتخاب لڑنے اور بیرون ملک سفر کرنے پر مکمل پابندی عائد کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس کے علاوہ اس دوران سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرنے والے اس وقت کے وزیر مواصلات پرتھوی سبا گرونگ کے خلاف بھی کارروائی کی بات کہی گئی ہے۔ کمیشن کا ماننا ہے کہ ان کے اس فیصلے سے عوام کی اظہار رائے کی آزادی چھین لی گئی اور حالات مزید خراب ہو گئے۔

Published: undefined

تحریک کی آڑ میں ہونے والے جیل توڑنے کے واقعے کو کمیشن نے ایک سنگین مجرمانہ معاملہ مانا ہے۔ اس معاملے میں حکمراں جماعت ’راشٹریہ سوتنتر پارٹی‘ (آر ایس پی) کے صدر روی لامیچھانے کو بنیادی طور پر مجرم قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف فوجداری مقدمہ چلانے کی سفارش کی گئی ہے۔ اتنا ہی نہیں، آر ایس پی کے 2 اراکین پارلیمنٹ منیش جھا اور ہری ڈھکال پر بھی اس سازش میں شامل ہونے کے سنگین الزامات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ دونوں رہنما روی لامیچھانے کو جیل سے چھڑانے وہاں پہنچے تھے اور انہوں نے ہی باقی قیدیوں کو بھگانے کے لیے ہجوم کو اکسایا تھا۔ اس معاملے میں آر ایس پی کے تقریباً 15 دیگر اراکین پارلیمنٹ کے خلاف بھی پرتشدد ہجوم کو بھڑکانے اور آتش زنی کے الزام میں تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔

Published: undefined

کمیشن نے رپورٹ میں صاف کہا ہے کہ احتجاج کے دوسرے دن ملک بھر میں جو تشدد اور آتش زنی ہوئی، اسے روکنے میں ملک کا سیکورٹی نیٹورک پوری طرح ناکام رہا۔ اس کے لیے نیپال پولیس کے موجودہ سربراہ (آئی جی پی) دان بہادر کارکی اور آرمڈ پولیس فورس کے موجودہ سربراہ (آئی جی پی) نارائن دت پوڈیل کو ذمہ دار مانتے ہوئے محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ ساتھ ہی انٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ اور پولیس کے اس وقت کے سربراہوں کو مستقبل میں کسی بھی سرکاری عہدے کے لیے نااہل قرار دینے کو کہا گیا ہے۔

Published: undefined

رپورٹ میں نیپالی فوج کے کردار کو بھی مشکوک مانا گیا ہے اور فوج کو مستقبل میں اپنی آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کرنے کی سخت ہدایت دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ عبوری حکومت کی وزیر اعظم سوشیلا کارکی اور سابق وزیر داخلہ سودن گرونگ کے کردار کو بھی مشتبہ بتاتے ہوئے تفصیلی تفتیش کے دائرے میں لایا گیا ہے۔ تحقیقات میں ایک اور انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ’تبت اوریجن بلڈ‘ (ٹی او بی) نامی ایک گروپ کے کچھ مشکوک نوجوان، جو مخصوص ٹی شرٹ اور جیکٹ پہنے ہوئے تھے، اچانک اس مظاہرے میں گھس آئے۔ انہوں نے ہی پولیس کے خلاف ہجوم کو پرتشدد ہونے کے لیے اکسایا، جس کے بعد پولیس کو مجبوراً گولیاں چلانی پڑیں۔

Published: undefined

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ احتجاج کے دوران کئی رہنماؤں کی تقاریر تشدد بھڑکانے والی تھیں۔ آر ایس پی کے 15 اراکین پارلیمنٹ کے خلاف آتش زنی، توڑ پھوڑ اور اشتعال انگیز بیانات دینے کے الزام میں تحقیقات کی سفارش کی گئی ہے۔ تاہم رپورٹ میں وزیر اعظم بالین شاہ کے کردار کا کوئی ذکر نہ ہونے سے نیپال کی سیاست میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined