
تصویر/آئی اے این ایس
جرمنی میں ایک تقریب کے دوران اچانک ایک کار کے داخل ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس میں ایک شخص ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ہفتے کی شام سنٹرل برلن میں ایک بڑے ’پرائیڈ‘ جشن کے دوران ایک کار کے ہجوم میں گھس جانے سے ایک شخص کی موت ہو گئی اور 17 دیگر افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں سے کئی لوگوں کو شدید چوٹیں آئی ہیں۔ یہ واقعہ کرسٹوفر اسٹریٹ ڈے (سی ایس ڈی) پریڈ کے دوران پیش آیا، جو برلن کا سب سے بڑا پرائیڈ جشن ہے۔ نیوز ایجنسی ’سنہوا‘ کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے سے کچھ دیر قبل ایک شخص سفید گاڑی لے کر ہجوم میں داخل ہو گیا۔
اس سے قبل 16 افراد کے زخمی ہونے کی خبر تھی۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے اعداد و شمار کو اپڈیٹ کرتے ہوئے، برلن پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ شیئر کی۔ پوسٹ میں لکھا کہ ’’تازہ ترین معلومات کے مطابق 17 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے ایک شخص کی موت ہو گئی ہے اور کئی لوگوں کو شدید چوٹیں آئی ہیں۔ متاثرین کے لواحقین کے لیے 4460 8485 030 پر ایک انفارمیشن سینٹر قائم کر دیا گیا ہے۔‘‘ پولیس نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ تقریب کو منسوخ کرنے کے بعد علاقے کو سیل کر دیا گیا اور بڑے پیمانے پر پولیس کا سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا تھا۔ کئی پولیس اہلکار، فائر فائٹرز اور ایمرجنسی میڈیکل اسٹاف کو جائے وقوعہ پر روانہ کیا گیا تھا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی تھی۔
جرمن نیوز ایجنسی ’ڈی پی اے‘ کے مطابق عینی شاہدین نے پولیس کو بتایا ہے کہ کچھ لوگوں کو چاقو کے زخم بھی آئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کار اس بات کی جانچ کر رہے ہیں کہ آیا گاڑی کے ہجوم میں گھسنے کے بعد حملے کا دوسرا مرحلہ بھی شروع ہوا تھا یا نہیں۔ پولیس نے بتایا کہ ایک یا اس سے زائد مشتبہ افراد کی بڑے پیمانے پر تلاش جاری ہے۔ واقعے کے مقاصد اور حالات کی تحقیقات ابھی کی جا رہی ہیں۔ برلن کے گورننگ میئر کائی ویگنر نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ پرامن سی ایس ڈی تقریب پر انتہائی بے رحمی سے حملہ کیا گیا ہے۔ میئر ویگنر نے اسے ایک آزاد اور کھلے معاشرے پر حملہ قرار دیا ہے۔
ویگنر نے کہا کہ ’’یہ ہمارے آزاد اور کھلے معاشرے پر حملہ ہے۔ ایک پرامن اور رنگین سی ایس ڈی کے بعد، ایک روادار اور پرامن برلن کے لیے منعقدہ اجتماع پر انتہائی بے رحمی سے حملہ کیا گیا ہے۔ برلن آزادی کا شہر ہے اور آج ہماری آزادی پر انتہائی خوفناک طریقے سے حملہ کیا گیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میری ہمدردیاں اور دعائیں متاثرین، ان کے خاندانوں اور دوستوں کے ساتھ ہیں۔ میں ایمرجنسی سروسز کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو فوری طور پر موقع پر پہنچیں اور اپنی پوری طاقت کے ساتھ کام کیا۔ مجھے پولیس اور سیکورٹی حکام پر پورا بھروسہ ہے، جو پوری تیزی سے اس معاملے کی تفتیش کریں گے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔