دیگر ممالک

امریکہ۔ایران معاہدے کے درمیان فرانس نے آبنائے ہرمز سے واپس بلایا اپنا ’طیارہ بردار بحری جہاز‘

فرانسیسی صدر امینوئل میکروں نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’فرانسیسی طیارہ بردار بحری جہاز ’چارلس ڈی گال‘ اب مشرق وسطیٰ سے اپنے گھریلو بندرگاہ ’ٹولون‘ واپس لوٹ رہا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

تصویر/آئی اے این ایس

 

فرانسیسی صدر امینوئل میکروں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اطلاع دی کہ فرانسیسی طیارہ بردار بحری جہاز ’چارلس ڈی گال‘ اب مشرق وسطیٰ سے اپنے گھریلو بندرگاہ ’ٹولون‘ واپس لوٹ رہا ہے۔ خبر رساں ایجنسی ’سنہوا‘ کے مطابق اس طیارہ بردار بحری جہاز کو فرانس اور برطانیہ کی قیادت میں آبنائے ہرمز میں مجوزہ کثیر قومی بحری سیکورٹی مشن کی تیاری کے لیے خطے میں تعینات کیا گیا تھا۔

Published: undefined

امینوئل میکروں نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حال ہی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) سے خطے میں استحکام کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ اسی وجہ سے فرانس نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے واضح کیا کہ فرانس کے بارودی سرنگیں صاف کرنے والے وسائل اور ان کے حفاظتی بحری بیڑے وہیں تعینات رہیں گے اور ضرورت پڑنے پر اتحادی ممالک کے ساتھ مشترکہ کارروائیاں کرنے کے لیے تیار رہیں گے۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined