
تصویر/آئی اے این ایس
نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی آر آر ایم اے) نے سیلاب کی نئی وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ رسوا ضلع میں بھوٹے کوشی ندی میں پانی کی سطح مزید بڑھ گئی ہے۔ اتھارٹی کے مطابق ایک اور جھیل پھٹنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اتھارٹی نے سیٹلائٹ تصویر کی بنیاد پر ہفتے کی دیر رات بتایا تھا کہ رسواگڑھی سرحدی مقام سے تقریباً 18 کلومیٹر اوپر کی جانب ’لھینڈے کھولا‘ ندی کا بہاؤ رک گیا ہے۔ اس کے باعث تقریباً 0.11 مربع کلومیٹر رقبے میں ایک جھیل بن گئی ہے۔ جھیل پھٹنے سے ایک اور خطرناک سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
اتھارٹی نے اتوار کی صبح جاری ایک اطلاع میں کہا کہ ’’رسوا، نوواکوٹ، دھاڈنگ اور چتون اضلاع سمیت متاثرہ علاقوں میں تلاش، بچاؤ اور امدادی کاموں میں مصروف تمام افراد، دریاؤں کے کنارے رہنے والے شہریوں اور دیگر متعلقہ لوگوں سے اپیل ہے کہ وہ محتاط رہیں۔‘‘ محکمہ آبپاشی و موسمیات کے تحت آنے والے سیلاب کی پیشن گوئی کے ڈویژن کے مطابق دھاڈنگ ضلع کے گلچھی علاقے میں، جو بھوٹے کوشی ندی کے نشیبی حصے میں واقع ہے، ترشولی ندی میں پانی کی سطح معمول کی سطح سے 3 میٹر اوپر پہنچ گئی ہے۔
سیلاب پیش گوئی ڈویژن کے مطابق 26 اگست کو دھاڈنگ میں سیلاب کی سطح 14 میٹر سے زیادہ ریکارڈ کی گئی تھی۔ حکام کے مطابق ترشولی ندی میں پانی کی سطح بڑھنے کی بنیادی وجہ رسوا کے بھوٹے کوشی علاقے سے آنے والا سیلاب کا پانی ہے۔ محکمہ آبپاشی و موسمیات کے ایک افسر نے کہا کہ ’’فی الحال زیادہ خطرہ نہیں ہے، کیونکہ لوگ پہلے ہی ندی کے کنارے والے علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔‘‘ این ڈی آر آر ایم اے مسلسل اس بات سے خبردار کرتا رہا ہے کہ ایک اور بڑا سیلاب آ سکتا ہے، کیونکہ ’لھینڈے کھولا‘ ندی، جو بھوٹے کوشی ندی کی ایک معاون ندی ہے، کا بہاؤ متاثر ہو گیا ہے۔
اتھارٹی نے ہفتے کی دیر رات جاری بیان میں کہا کہ ’’27 اگست 2026 کو صبح 11:44 بجے لی گئی سیٹلائٹ تصویر کے ابتدائی تجزیے کی بنیاد پر پتہ چلتا ہے کہ رسواگڑھی سرحدی مقام سے تقریباً 18 کلومیٹر اوپر کی جانب ’لھینڈے کھولا‘ ندی کا بہاؤ رک گیا ہے۔ اس کے باعث تقریباً 0.11 مربع کلومیٹر رقبے میں ایک جھیل بن گئی ہے۔‘‘ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’اس بات کا خطرہ برقرار ہے کہ جھیل کو روکنے والا قدرتی بند ٹوٹ سکتا ہے، جس سے ایک اور بڑا سیلاب آ سکتا ہے۔ اس لیے ندی کے نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں اور تمام متعلقہ فریقوں سے محتاط رہنے اور انتہائی احتیاط برتنے کی اپیل کی جاتی ہے۔‘‘
اتھارٹی نے بتایا کہ ابتدائی جائزے سے اشارے ملے ہیں کہ اس علاقے میں کچھ مزید جھیلیں بھی بن سکتی ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق 26 اگست کو آئے خوفناک سیلاب کے باعث اب تک 675 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ 2498 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد میں 589 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔