دیگر ممالک

طالبان حکومت کے 5 سال مکمل، افغانستان محفوظ ہوا یا پابندیاں بڑھ گئیں؟

طالبان کے ترجمان اعلیٰ ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ’’حکومت معیشت کی بنیاد مضبوط کر رہی ہے، ہمیں صبر کرنا ہوگا۔ عالمی بینک کے اندازے کے مطابق افغانستان کی حقیقی معیشت میں 4.8 فیصد کی ترقی ہوئی ہے۔‘‘

ذبیح اللہ مجاہد، تصویر یو این آئی
ذبیح اللہ مجاہد، تصویر یو این آئی 

افغانستان میں طالبانی حکومت کے 5 برس مکمل ہو گئے ہیں۔ ہفتے کے روز طالبان حکومت اس موقع کو آزادی اور ملک میں سیکورٹی کے طور پر منا رہی ہے۔ راجدھانی کابل میں اس ہفتے جگہ جگہ ’اسلامک امارت آف افغانستان‘ کے سفید پرچم لگائے گئے ہیں۔ دیواروں پر نئے میورل بنائے گئے ہیں، جن پر لکھا ہے ’آزادی وقار، فخر اور شناخت کی علامت ہے‘۔ قابل ذکر ہے کہ طالبان نے 5 برس قبل کابل پر قبضہ کیا تھا۔ امریکہ کی قیادت میں غیر ملکی افواج کی افغانستان سے واپسی کے دوران طالبان نے تیزی سے پورے ملک پر اپنی دسترس حاصل کر لی۔ سرکاری سیکورٹی فورسز کے کمزور پڑنے کے بعد طالبان بغیر کسی بڑی لڑائی کے کابل میں داخل ہو گئے۔ غیر ملکی افواج کی چھوڑی ہوئی کچھ گاڑیاں بھی اس ہفتے نمائش میں رکھی گئی ہیں۔ ان میں دھول سے بھری ایک ہموی گاڑی بھی ہے، جسے آرائشی لائٹوں سے سجایا گیا ہے۔ طالبان حکومت اس موقع پر کرکٹ میچ اور دیگر کھیلوں کی تقریبات منعقد کر رہی ہے۔ حالانکہ ان میں لڑکیوں اور خواتین کے شرکت کرنے پر پابندی ہے۔

کابل کے 20 سالہ یونیورسٹی طالب علم فیروز مرزائی کا کہنا ہے کہ حکومت نے ملک میں سیکورٹی بڑھائی ہے، بنیادی ڈھانچے سے متعلق منصوبے شروع کیے ہیں اور کاروباری افراد کے لیے مواقع پیدا کیے ہیں۔ حالانکہ ان کے مطابق نوجوانوں کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ ملازمتوں کی کمی ہے۔ طالبان کے ترجمان اعلیٰ ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ’’حکومت معیشت کی بنیاد مضبوط کر رہی ہے اور اس کے لیے صبر کرنا ہوگا۔ عالمی بینک کے اندازے کے مطابق افغانستان کی حقیقی معیشت میں 4.8 فیصد کی ترقی ہوئی ہے۔ لیکن پڑوسی ممالک سے بڑی تعداد میں لوگوں کی واپسی کے باعث فی کس جی ڈی پی میں کمی آئی ہے۔ گزشتہ 3 برس میں ایران اور پاکستان سے 60 لاکھ سے زیادہ افغان واپس آچکے ہیں۔‘‘

طالبان نے کئی ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کیے ہیں، لیکن روس ہی واحد ملک ہے، جس نے اس کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات انتہائی خراب ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اس برس جنگ تک ہوئی ہے۔ بین الاقوامی امداد میں کٹوتی کا سامنا کر رہے افغانستان کا انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق افغان عوام کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ ’یو این اے ایم اے‘ کی انسانی حقوق کی ڈائریکٹر فیونا فریزر نے کہا کہ ’’گزشتہ 5 برسوں میں لوگوں کی روزمرہ زندگی اور انسانی حقوق پر انتہائی سخت پابندیاں بڑھ گئی ہیں۔ خواتین پر اس کا سب سے زیادہ اثر پڑا ہے۔ انہیں پارکوں سمیت کئی عوامی مقامات پر جانے اور ملازمت کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ لڑکیوں کی 12 برس کی عمر کے بعد تعلیم حاصل کرنے پر بھی پابندی ہے۔ کابل کی 23 سالہ ایک خاتون نے اپنی شناخت ظاہر کیے بغیر کہا کہ اسے مسلسل گھٹن محسوس ہوتی ہے۔ ان کے مطابق یہ 5 برس اتنے مشکل رہے ہیں کہ انہیں لگتا ہے، جیسے وہ 500 برس کی ہو گئی ہیں، جو مر بھی نہیں سکتی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔