
مشہور و معروف صنعت کار بل گیٹس نے آنجہانی فائنانسر اور جنسی جرائم کے مرتکب جیفری ایپسٹین سے اپنے رشتوں پر صفائی پیش کی ہے۔ گیٹس فاؤنڈیشن کے ایک ٹاؤن ہال پروگرام میں ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے اعتراف کیا کہ ایپسٹین سے ملنا ان کی ’بہت بڑی غلطی‘ تھی۔ اس بات کی جانکاری فاؤنڈیشن کے ترجمان نے دی۔
Published: undefined
امریکی اخبار ’دی وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ کے مطابق بل گیٹس نے ملازمین سے کہا کہ ایپسٹین کے ساتھ وقت گزارنا اور فاؤنڈیشن کے افسران کو بھی ان میٹنگوں میں شامل کرنا غلط فیصلہ تھا۔ رپورٹ میں ٹاؤن ہال کی ریکارڈنگ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گیٹس کا کہنا ہے ’’میں اپنی غلطی کی وجہ سے جن لوگوں کو اس میں گھسیٹا گیا، ان سے معافی مانگتا ہوں۔‘‘
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ امریکی محکمہ انصاف کے ذریعہ جاری دستاویزات سے پتہ چلا ہے کہ ایپسٹین کی سزا پوری ہونے کے بعد بھی گیٹس اور ایپسٹین کی کئی بار ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ ان ملاقاتوں میں گیٹس کے انسان دوست کاموں کی توسیع پر بات چیت ہوئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق گیٹس نے اپنے بیان میں یہ بھی اعتراف کیا کہ ان کے 2 روسی خواتین کے ساتھ تعلقات تھے، جن کی جانکاری بعد میں ایپسٹین کو ہو گئی تھی۔ حالانکہ انھوں نے واضح کیا کہ ان معاملوں کا ایپسٹین کے متاثرین سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ گیٹس نے ملازمین سے کہا کہ ’’میں نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا، اور نہ ہی ناجائز کچھ ہوتے دیکھا۔‘‘
Published: undefined
واضح رہے کہ امریکی محکمہ انصاف کے دستاویزات میں کچھ تصویریں شامل ہیں، جن میں گیٹس خواتین کے ساتھ نظر آ رہے ہیں۔ ان تصویروں میں خواتین کے چہرے دھندلے کیے گئے ہیں۔ اس بارے میں گیٹس نے ملازمین کو بتایا کہ یہ تصویریں ایپسٹین کی گزارش پر اس کی معاون خواتین کے ساتھ میٹنگ کے بعد لی گئی تھیں۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ ’’میں نے کبھی بھی ایپسٹین ے متاثرین کے ساتھ وقت نہیں گزارا۔‘‘
Published: undefined
بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے ترجمان نے بتایا کہ یہ ٹاؤن ہال میٹنگ پہلے سے طے تھی، جس میں گیٹس نے کئی ایشوز پر سوالوں کے جواب دیے۔ ان سوالوں میں ایپسٹین فائلز کی ریلیز کے بعد پیدا سوالات بھی شامل تھے۔ ترجمان کے مطابق گیٹس نے کھل کر ہر سوال کا جواب دیا اور اپنے فیصلوں کی ذمہ داری لی۔ فاؤنڈیشن نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے پر فی الحال وہی آفیشیل بیان ہے، اور وہ اس سے زیادہ تبصرہ نہیں کرے گا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined