
علامتی تصویر / سوشل میڈیا
افریقہ میں ایبولا وائرس کی تباہ کاریاں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں۔ ایک چھوٹے سے ملک کانگو میں ایبولا کے اثر سے اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ افریقہ کے اہم صحت کے ادارے کے مطابق کانگو میں ایبولا کی وبا بدستور جاری ہے۔ یہ تاریخ میں سب سے تیزی سے پھیلنے والی ایبولا وبا ہے، جس میں مقامی آبادی کی مزاحمت اور غیر مساوی ردِعمل اس وائرس کے تیزی سے پھیلنے کا سبب بن رہے ہیں۔ گھانا میں بدھ کے روز منعقدہ ایک صحت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ’افریقہ سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن‘ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر جین کاسیہ نے کہا کہ ’’کانگو میں 1031 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’کافی تیزی سے اموات ہو رہی ہیں۔ اموات کی اہم وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس ویکسین نہیں ہے، دوائیں نہیں ہیں، اور فنڈ بھی موجود نہیں ہے۔‘‘
کانگو کی وزارتِ صحت کی تازہ رپورٹ کے مطابق پیر کے روز تک اس وائرس کے 2473 نئے کیسز درج کیے گئے تھے۔ وزارت نے بتایا کہ کم از کم 737 مریض آئسولیشن میں تھے یا اسپتال میں داخل تھے۔ 15 مئی کو اعلان کیا گیا کہ یہ ویریئنٹ گزشتہ کئی ایبولا وائرسوں سے کچھ مختلف ہے، کیونکہ اس کے لیے ذمہ دار بُنڈی بُگیو ویریئنٹ کے خلاف اب تک کوئی منظور شدہ ویکسین یا دوا دستیاب نہیں ہو سکی ہے۔ کسی بھی ریکارڈ پر موجود دوسرے ایبولا وائرس کے مقابلے میں اس ویریئنٹ نے زیادہ تیزی سے لوگوں کی جان لی ہے، جس میں 2013 سے 2016 تک پھیلنے والی وہ وبا بھی شامل ہے۔ جسے اب تک کی بدترین وبا سمجھا جاتا ہے۔ اس وبا کے دوران کم از کم 28000 کیسز سامنے آئے تھے، اور ان میں سے 11 ہزار سے زائد افراد کی موت ہو گئی تھی۔ اس وقت اس وائرس کے پہلے کیس کی شناخت سے لے کر ایک ہزار اموات تک پہنچنے میں تقریباً 8 ماہ لگے تھے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ وائرس کی تباہ کاریوں کے حوالے سے اصل اعداد و شمار اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے اور سرکاری اعداد و شمار کے مقابلے میں 2 سے 4 گنا زیادہ ہو سکتا ہے، کیونکہ ان علاقوں میں کچھ ایسی برادریاں بھی ہیں، جہاں تک رسائی ممکن نہیں ہو پاتی، جس کی وجہ باغی گروہوں کے درمیان جاری لڑائی ہے۔ ایبولا ایک نایاب لیکن انتہائی موذی بیماری ہے، اور یہ وائرس قے، خون یا منی جیسے جسمانی رطوبتوں کے رابطے میں آنے سے پھیل سکتا ہے۔ اس کی وجہ سے شدید بیماری لاحق ہو سکتی ہے اور کئی مرتبہ یہ جان لیوا بھی ثابت ہوتی ہے۔ افسران نے خبردار کیا ہے کہ وائرس سے متعلق 80 فیصد نئے کیسز متاثرہ مقامات سے باہر کے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وائرس طبی افسران کے ذریعہ اس کا سراغ لگانے کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ جبکہ یہ طبی افسران وائرس کے مرکز اِتوری صوبے اور دیگر 4 صوبوں، جہاں اس کے کیسز درج کیے گئے ہیں۔
ایبولا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تدفین بھی ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے۔ محفوظ طریقے سے تدفین کرنے والی ٹیموں کی کئی برادریوں کی جانب سے مخالفت کی جا رہی ہے، جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ اِتوری صوبے میں بعض برادریوں نے تدفین کرنے والی ٹیموں کو کام کرنے سے منع کر دیا ہے، کیونکہ وہ روایتی طریقے سے تدفین کرتے ہیں، لیکن اس بیماری کے مزید پھیلنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ تدفین کرنے والی ٹیموں پر حملے بھی کیے جا رہے ہیں۔ جس کے سبب کئی صحت مراکز اور امدادی ٹیموں میں کام کرنے والے کارکنان اور امدادی تنظیمیں بعض علاقوں سے ہٹ گئی ہیں۔ کچھ طبی عملے نے ہڑتال بھی کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیماری پھیلنے کے بعد سے انہیں تنخواہیں نہیں ملی ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔