دیگر ممالک

شدید زلزلہ کے جھٹکے سے لرز گئی ترکی کی زمین، ازمیر میں کئی عمارتیں منہدم، دیکھیے تصویریں

اب تک زلزلہ کی زد میں آنے سے کسی کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے لیکن ترکی کے ازمیر شہر کی جو تصویریں سامنے آئی ہیں، اس میں کئی عمارتیں منہدم نظر آ رہی ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

ترکی میں طاقتور زلزلہ کی وجہ سے کئی عمارتوں کے منہدم ہونے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق زلزلہ اس قدر تیز تھا کہ دیکھتے ہی دیکھتے کچھ عمارتیں زمیں دوز ہو گئیں۔ یو ایس جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کا کہنا ہے کہ مغربی ازمیر علاقہ کے ساحل سے تقریباً 17 کلو میٹر (11 میل) دور 7.0 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا ہے۔

Published: 30 Oct 2020, 7:55 PM IST

بی بی سی کے مطابق فی الحال اس زلزلہ کی زد میں آنے سے کسی کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے لیکن ترکی کے ازمیر شہر کی جو تصویریں سامنے آ رہی ہیں، اس میں کئی عمارتیں منہدم نظر آ رہی ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مالی طور پر اس زلزلہ سے کافی نقصان ہوا ہے۔ یو ایس جیولوجیکل سروے نے جو اطلاع دی ہے اس کے مطابق ترکی کے علاوہ اتھینز اور گریس بھی زلزلہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس زلزلہ کی وجہ سے ازمیر میں سونامی کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں انتظامیہ کی جانب سے وارننگ جاری کیے جانے کی بھی خبریں مل رہی ہیں۔

Published: 30 Oct 2020, 7:55 PM IST

میڈیا میں آ رہی کچھ خبروں میں ازمیر کے میئر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اب تک یہاں کی کم از کم 20 عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں۔ حالانکہ خبر رساں ادارہ رائٹرس کے مطابق ترکی کے وزیر داخلہ سلیمان سویولو کا کہنا ہے کہ ساحل سمندر پر بسے ازمیر کے دو اضلاع میں چھ عمارتیں منہدم ہوئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گریس کے ساموس جزیرہ میں بھی زلزلہ کے تیز جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔ یہاں سے بھی تباہی کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔

Published: 30 Oct 2020, 7:55 PM IST

قابل ذکر ہے کہ جنوری میں ترکی کے سبریس میں بھی زبردست زلزلہ آیا تھا جس میں 30 سے زائد لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور 1600 سے زائد لوگ زخمی ہوئے تھے۔ علاوہ ازیں ترکی کے ازمیر شہر میں سال 1999 میں خوفناک زلزلہ آیا تھا جس میں 17 ہزار لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔

Published: 30 Oct 2020, 7:55 PM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 30 Oct 2020, 7:55 PM IST