دیگر ممالک

ٹرمپ کی تقاریر سے کمائی پڑی مہنگی، وائٹ ہاؤس کے ملازم پر 172000 ڈالر کا جرمانہ

بی بی سی کے مطابق گیبریئل پیریز نے دسمبر 2025 سے فروری 2026 کے درمیان ٹرمپ کی تقریروں اور خطابات میں کیا کہا جائے گا، اس معلومات کی بنیاد پر ’کالشی‘ نامی پریڈکشن مارکیٹ پلیٹ فارم پر ٹریڈنگ کی۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر (ویڈیو گریب)</p></div>

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر (ویڈیو گریب)

 

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی تقریروں میں کیا کہا جائے گا، اس کی اندرونی معلومات کا استعمال کر کے سٹہ لگانے والے وائٹ ہاؤس کے سابق ٹیلی پرامپٹر آپریٹر گیبریئل پیریز کے خلاف بڑی کارروائی کی گئی ہے۔ انہیں 172000 ڈالر سے زیادہ کی رقم ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ’امریکی کموڈیٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن‘ (سی ایف ٹی سی) کے مطابق پیریز نے ٹرمپ کی تقریروں سے متعلق خفیہ معلومات کی بنیاد پر ٹریڈنگ کر کے منافع کمایا تھا۔ بی بی سی کے مطابق گیبریئل پیریز نے دسمبر 2025 سے فروری 2026 کے درمیان ٹرمپ کی تقریروں اور خطابات میں کیا کہا جائے گا، اس معلومات کی بنیاد پر ’کالشی‘ نامی پریڈکشن مارکیٹ پلیٹ فارم پر ٹریڈنگ کی۔

سی ایف ٹی سی نے کہا کہ پیریز کو 107539.02 ڈالر کا منافع واپس کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ انہیں 65000 ڈالر کا جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔ جمعہ کے روز معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے ریگولیٹر نے کہا کہ پیریز نے ٹرمپ کی تقریروں سے متعلق پہلے سے حاصل معلومات کا غلط استعمال کرتے ہوئے شرطیں لگائیں۔ یہ ان کے اعتماد اور رازداری سے متعلق ذمہ داری کی خلاف ورزی تھی۔ سی ایف ٹی سی نے بتایا کہ تحقیقات کے دوران پیریز نے جس طرح تعاون کیا، اسے دیکھتے ہوئے شہری جرمانے کی رقم کم کی گئی۔ ریگولیٹر نے ان کے تعاون کو بہترین قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پیریز پر 3 برس تک ٹریڈنگ کرنے کی پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے اب تک اس معاہدے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ اس سے قبل جولائی میں اس وقت کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا تھا کہ پیریز کو بغیر تنخواہ تعطیل پر بھیج دیا گیا ہے اور وہ اپنی سابقہ ذمہ داری پر واپس نہیں لوٹیں گے۔ کالشی کے چیف وکیل بابی ڈینولٹ نے اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر کہا کہ پلیٹ فارم کے قواعد یا وفاقی قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی شخص کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ کمپنی نے اس سے قبل بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس کے تجزیہ کاروں نے ’منٹشن مارکیٹس‘ میں غیر معمولی سرگرمی کا پتہ لگایا تھا۔ ان مارکیٹس میں لوگ یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ کوئی مقرر اپنی تقریر میں کسی خاص لفظ، ملک کا نام یا انتخابی نعرہ بولے گا یا نہیں۔ کالشی نے بتایا کہ اس نے اکاؤنٹ سے متعلق ڈاٹا کا استعمال کرکے اس شخص کی شناخت کی۔

کمپنی کے مطابق متعلقہ صارف وفاقی حکومت کا ملازم تھا اور وائٹ ہاؤس میں ٹیلی پرامپٹر چلانے کا کام کرتا تھا۔ اس کے بعد کمپنی نے اس سرگرمی کی اطلاع سی ایف ٹی سی کو دی۔ کمپنی نے جولائی میں جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا تھا کہ سیاسی لیڈران، صدر اور فیڈرل ریزرو کے سربراہ جیسی اہم شخصیات کی تقریروں میں استعمال ہونے والے الفاظ غیر ملکی زرمبادلہ مارکیٹ، تیل اور شیئر بازار میں اربوں ڈالر کے اتار چڑھاؤ کا سبب بن سکتے ہیں۔ بی بی سی کے مطابق وائٹ ہاؤس مینجمنٹ دفتر نے جولائی میں ملازمین اور معاونین کو ایک خط بھیجا تھا۔ اس میں انہیں پریڈکشن مارکیٹس پر کسی بھی طرح کی شرط لگانے سے گریز کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔