
ویڈیو گریب
چین کے صوبہ شانشی میں کوئلہ کان کے ایک بڑے حادثے میں اب تک 82 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ 9 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ یہ حادثہ گزشتہ کئی سالوں میں چین کا سب سے بڑا کوئلہ کان حادثہ مانا جا رہا ہے۔ سرکاری نیوز ایجنسی ’سنہوا‘ کے مطابق یہ دھماکہ جمعہ کو صوبہ شانشی کے قینیوان کاؤنٹی کی ایک کوئلہ کان میں ہوا۔ یہ علاقہ راجدھانی بیجنگ سے تقریباً 520 کلومیٹر دور ہے۔ حادثے سے قبل کان میں کاربن مونو آکسائیڈ گیس کا الرٹ جاری کیا گیا تھا، جس کے کچھ دیر بعد زوردار دھماکہ ہو گیا۔
Published: undefined
حادثہ کے وقت کان کے اندر 247 مزدور کام کر رہے تھے۔ دھماکے کے بعد کئی مزدوروں کو باہر نکال لیا گیا، لیکن کئی لوگ اندر ہی پھنس گئے۔ اب تک 82 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ امدادی اور بچاؤ ٹیمیں مسلسل لاپتہ مزدوروں کی تلاش کر رہی ہیں۔ حادثے کے بعد چین کے صدر شی جنپنگ نے بچاؤ ٹیموں کو حکم دیا کہ وہ لاپتہ لوگوں کو تلاش کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ شانشی چین کا سب سے بڑا کوئلہ پیدا کرنے والا صوبہ ہے۔ اگرچہ چین نے گزشتہ چند سالوں میں کانوں کی حفاظت کو بہتر بنانے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن اس کے باوجود حادثات رک نہیں رہے ہیں۔ فروری 2023 میں انر منگولیا کی ایک کوئلہ کان میں تودہ گرنے کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں 53 مزدور جاں بحق ہو گئے تھے۔ وہیں گزشتہ ماہ شانشی کے لولیانگ علاقے میں بھی کان کے ایک حادثے میں 4 افراد کی جان چلی گئی تھی۔
Published: undefined
شی جنپنگ نے کہا کہ تمام سرکاری محکموں اور صوبوں کو اس حادثے سے سبق لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کام کی جگہوں پر حفاظتی قوانین کو مزید سخت کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے بڑے حادثات پیش نہ آئیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ چین میں اس وقت بارش کا موسم چل رہا ہے، اس لیے سیلاب اور دیگر قدرتی خطرات سے نمٹنے کے لیے بھی تیاریوں کو مضبوط رکھا جائے۔
Published: undefined
چینی وزیر اعظم لی کیانگ نے کہا کہ لاپتہ مزدوروں کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے۔ انہوں نے حادثے کی وجہ کی جلد از جلد تحقیقات کرنے اور قصورواروں کو سزا دینے کی بات کہی۔ سرکاری میڈیا کے مطابق، چین کے نائب وزیر اعظم ژانگ گوؤ چنگ اور کئی مقامی حکام بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں اور امدادی کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined