دیگر ممالک

کینیڈا نے نیا قانون متعارف کرا دیا، ملک میں 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کی تیاری

کینیڈا کے وزیر ثقافت مارک ملر نے کہا کہ معاشرہ بچوں کو محفوظ رکھنے میں ناکام رہا ہے اور اب سخت قدم اٹھانے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کے لئے بنیادی حفاظتی انتظامات یقینی بنائے جانے چاہئیں۔

<div class="paragraphs"><p>بچوں پر پابندی کی تجویز</p></div>

بچوں پر پابندی کی تجویز

 

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر بڑھتے خطرات سے بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کینیڈا حکومت نے ایک نیا قانون پیش کیا ہے۔ اس کے تحت ملک میں 16 برس سے کم عمر کے بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ حالانکہ سوشل میڈیا کمپنیوں کو اس قانون سے رعایت مل سکتی ہے۔ اس کے لیے انہیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کا پلیٹ فارم بچوں کے لیے محفوظ ہے اور وہاں ضروری سیکورٹی اقدامات موجود ہیں۔

Published: undefined

کینیڈا کے وزیر ثقافت مارک ملر نے کہا کہ معاشرہ بچوں کو محفوظ رکھنے میں ناکام رہا ہے اور اب سخت قدم اٹھانے کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کے لئے بنیادی حفاظتی انتظامات یقینی بنائے جانے چاہئیں۔ مجوزہ قانون میں 7 قسم کے نقصاندہ آن لائن مواد کو شامل کیا گیا ہے۔ ان میں ایسے مواد شامل ہیں جو بچوں کو خود نقصان پہنچانے کے لیے اکساتے ہوں، تشدد کو فروغ دیتے ہوں، نفرت پھیلاتے ہوں یا کسی فرد کی ذاتی اور مباشرتی تصاویر کو اس کی اجازت کے بغیر شیئر کرتے ہوں۔

Published: undefined

اس قانون کو نافذ کرنے اور اس کی نگرانی کے لیے کینیڈا حکومت ایک نیا محکمہ ’ڈیجیٹل سیفٹی کمیشن آف کینیڈا‘ بنائے گی۔ یہ محکمہ طے کرے گا کہ کسی سوشل میڈیا کمپنی کو رعایت دینے کے لیے کون کون سے سیکورٹی معیارات کو پورا کرنا ہوگا۔ حکومت نے کہا ہے کہ ان معیارات کی اطلاع بعد میں دی جائے گی۔ وزیر مارک ملر کے مطابق اس نئے محکمہ کو پوری طرح قائم ہونے میں تقریباً 18 ماہ لگ سکتے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اب سوشل میڈیا کمپنیوں کو خود کو ثابت کرنا ہوگا کہ ان کے پلیٹ فارم بچوں کے لیے محفوظ ہیں۔ اس کے علاوہ صارفین کی عمر کی جانچ کرنے کے لیے ’ایج ویریفکیشن‘ کا بندوبست بھی نافذ کیا جائے گا۔  

Published: undefined

کینیڈا سے پہلے آسٹریلیا، برازیل اور انڈونیشیا نے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر عمر سے متعلق ضوابط نافذ کئے ہیں یا ان کا اعلان کر چکے ہیں۔ علاوہ ازیں برطانیہ، فرانس، اسپین، ڈنمارک، تھائی لینڈ اور جنوبی کوریا بھی ایسے ضوابط پر غور کر رہے ہیں۔ قانون کے مطابق بالغ مواد والے آن لائن پلیٹ فارم کو کسی بھی طرح کی رعایت نہیں ملے گی۔ نئے قانون میں اے آئی (مصنوعی ذہانت) چیٹ باٹ بنانے والی کمپنیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ کمپنیاں قانونی طور پر ذمہ داری کے ساتھ کام کرنے کی پابند ہوں گی اور انہیں بحران کے حالات میں دخل جیسے تحفظات پر خاص دھیان دینا ہوگا۔

Published: undefined

آسٹریلیا میں 16 برس سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی نافذ ہونے کے بعد کمپنیوں نے تقریباً 47 لاکھ ایسے اکاؤنٹ بند کر دیئے ہیں جو بچوں کے بتائے گئے تھے۔ وہاں اس قانون کے حوالے سے بڑی بحث بھی ہوئی تھی۔ کینیڈا حکومت کا کہنا ہے کہ وہ آسٹریلیا کے تجربات سے سیکھ کر اپنے قوانین نافذ کرے گی۔ کینیڈین سینٹر فار چائلڈ پروٹیکشن کی ایکزیکیوٹیو ڈائریکٹر لیانا میکڈونالڈ نے اس قدم کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر بچوں کو بلیک میل کرنے اور جنسی استحصال سے متعلق معاملات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اس لیے ایسے قانون کی ضرورت ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined