دیگر ممالک

بنگلہ دیش میں بی این پی رہنما کے گھر کو آگ لگا دی، سات سالہ بیٹی زندہ جل گئی

شریف عثمان ہادی کی ہلاکت کے بعد بنگلہ دیش میں بھڑکنے والے تشدد میں لکشمی پور میں بی این پی کے ایک رہنما کے گھر کو آگ لگا دی گئی جس میں اس کی سات سالہ بیٹی کی موت ہو گئی۔

<div class="paragraphs"><p>فائ؛ تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائ؛ تصویر آئی اے این ایس

 

بنگلہ دیش میں طالب علم رہنما شریف عثمان ہادی کی ہلاکت کے بعد پھوٹنے والا تشدد اب ایک ہولناک موڑاختیار کرتا جا رہا ہے۔ تازہ ترین واقعے میں بی این پی کے ایک رہنما کے گھر کو آگ لگا دی گئی جس میں اس کی سات سالہ بیٹی زندہ جل گئی۔ یہ المناک واقعہ ملک میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور بڑھتے ہوئے سیاسی تشدد کی ایک ہولناک تصویر پیش کرتا ہے۔

Published: undefined

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ لکشمی پور ضلع میں پیش آیا جہاں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے رہنما بلال حسین کے گھر کو ہفتے کی صبح باہر سے تالا لگا کر آگ لگا دی گئی۔ بلال حسین بھابانی گنج یونین بی این پی کے اسسٹنٹ آرگنائزنگ سیکرٹری ہیں۔ واقعہ کے وقت وہ اپنی تین بیٹیوں کے ساتھ گھر میں موجود تھے۔

Published: undefined

بلال حسین کی سب سے چھوٹی بیٹی عائشہ اختر (7) موقع پر ہی دم توڑ گئی، جب کہ ان کی دو دیگر بیٹیاں سلمیٰ اختر (16) اور سمیعہ اختر (14) شدید جھلس گئیں۔ آگ لگنے سے بلال حسین بھی زخمی ہو گئے۔ مقامی حکام کے مطابق بلال حسین لکشمی پور صدر اسپتال میں زیر علاج ہیں، جب کہ ان کی دو زخمی بیٹیوں کو بہتر علاج کے لیے ڈھاکہ بھیج دیا گیا ہے۔

Published: undefined

یہ واقعہ شریف عثمان ہادی کی ہلاکت کے بعد مسلسل تیسرے دن تشدد کے دوران پیش آیا۔ ہادی کی موت کی تصدیق جمعرات کی رات سنگاپور میں ہوئی، جس کے بعد ملک بھر میں پرتشدد مظاہرے شروع ہوئے۔ دارالحکومت ڈھاکہ سمیت کئی شہروں میں توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ تشدد ہندوستان مخالف مظاہروں تک پھیل گیا ۔

Published: undefined

دریں اثناء بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے شریف عثمان ہادی کے انتقال پر قومی سوگ کا اعلان کرتے ہوئے ملک بھر میں خصوصی دعاؤں کا حکم دیا۔ ہادی کی آخری رسومات ہفتے کے روز ڈھاکہ یونیورسٹی کیمپس میں سخت سیکیورٹی کے درمیان ادا کی گئیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined