
پاکستانی آرمی
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر (پی او کے) میں پاکستانی رینجرز اور ایف سی کی فائرنگ مسلسل جاری ہے۔ 29 جولائی کی دوپہر ایک بجے چنار چوک کے قریب کھیتوں میں جمع لوگوں کے پاس پاکستانی رینجرز آئے، اور بالکل قریب سے فائرنگ کر دی۔ اس فائرنگ میں تقریباً 3 اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔ اس فائرنگ کے بعد بارش شروع ہو گئی، جس کی وجہ سے کچھ دیر تک ماحول پر امن رہا۔ لیکن شام 4 بجے جیسے ہی کثیر تعداد میں مظاہرین کا قافلہ راولا کوٹ سے مظفر آباد کی جانب روانہ ہوا تو پاکستانی رینجرز متحرک ہو گئے۔ مظفر آباد پولیس ناکے پر پہنچتے ہی پی او کے پولیس نے آنسو گیس کے گولے داغے اور رینجرز نے فائرنگ شروع کر دی۔ اس فائرنگ میں بھی کم از کم 2 اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔ فی الحال راولا کوٹ کی عیدگاہ سے نکلا مظاہرین کا قافلہ راولا کوٹ کے ’ڈی چوک‘ پر بیٹھا ہوا ہے، اور گزشتہ شب 10.30 بجے رینجرز نے شہر کی بجلی سپلائی بند کرکے فائرنگ جاری رکھی اور مظاہرین نعرے بازی کرتے رہے۔ اس درمیان پیر اور منگل کے روز میر پور اور راولا کوٹ میں فائرنگ میں زخمی ہوئے لوگوں نے گزشتہ روز آخری سانس لی۔
واضح رہے کہ پیر اور منگل کے روز کی فائرنگ میں اموات کی کل تعداد 31 ہو گئی ہے۔ اس لحاظ سے 3 دنوں میں پاکستانی رینجرز نے 36 غیر مسلح کشمیریوں کی جان لی ہے۔ پی او کے میں پاکستانی رینجرز اس بار ’ٹارگٹ کلنگ‘ بھی کر رہے ہیں۔ فائرنگ میں ایسے لوگوں کو مارا جا رہا ہے جو مظاہروں میں ذمہ داری سنبھال رہے تھے۔ اس ضمن میں پیر کے روز مظاہروں کے منتظمین میں عمر نظیر کے بھائی عثمان نظیر کی پاکستانی رینجرز کی فائرنگ میں موت ہو گئی ہے۔ اسی طرح راولا کوٹ بس اسٹینڈ پر ’سرفروشی کی تمنا‘ گانے والے پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر اسامہ جمیل کی پاکستانی رینجرز کی فائرنگ میں موت ہو گئی۔ حزب المجاہدین کا سابق کمانڈر فاروق سدھان بھی پولیس فائرنگ میں زخمی ہوا ہے۔ اب تک آئی اطلاعات کے مطابق گزشتہ 3 دنوں میں پاکستانی رینجرز کی بربریت میں 80 سے زیادہ لوگ راولا کوٹ اور میر پور میں زخمی ہوئے ہیں۔ جہاں پاکستانی رینجرز اور پی او کے پولیس لوگوں کو گولی مار رہی ہے۔
دوسری جانب ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ میر پور میں پاکستانی فوج کی لوٹ مار کی ویڈیو اور سی سی ٹی وی فوٹیج اس کے ہاتھ لگی ہے۔ اس میں سادی وردی میں رینجرز اور وردی میں پی او کے پولیس کے جوان ایک دکان کا تالا توڑ کر پانی کی بوتلیں اور آئس کریم چوری کر رہے ہیں۔ پاکستانی رینجرز کی کارروائی پر نظر ڈالی جائے تو 7 جون سے جاری پاکستانی فوج کی بربریت اور 9 جولائی سے شروع ہوئی بغاوت میں 29 جولائی تک 110 اموات کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اس بغاوت کے درمیان پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کے سیاسی امور کے خصوصی مشیر اور سابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے ’جیو نیوز‘ پر کہا کہ مظفر آباد جانے کی کوشش کرنے والے، راولا کوٹ میں بیٹھے وہی دہشت گرد ہیں جنہیں کبھی پاکستان نے ہندوستان کے خلاف ٹرینڈ کر کے لڑںے کے لیے بھیجا تھا۔ رانا ثناء اللہ نے دعوی کیا ہے کہ ان لوگوں کے پاس ہتھیار بھی ہیں اور ان مظاہرین کے خلاف جو کارروائی کی جا رہی ہے وہ صحیح ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔