
امریکی صدر ٹرمپ / آئی اے این ایس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بِل پُلٹے کو امریکہ کا قائم مقام نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر (ڈی این آئی) مقرر کیا ہے۔ ڈی این آئی امریکہ کی 18 خفیہ ایجنسیوں کی نگرانی کرتا ہے اور اسے ملک کا سب سے بڑا انٹیلی جنس افسر مانا جاتا ہے۔ موجودہ ڈی این آئی تلسی گبارڈ کی مدت کار 30 جون کو ختم ہو رہی ہے، جس کے بعد پلٹے یہ ذمہ داری سنبھالیں گے۔
Published: undefined
بل پلٹے ایک بڑے کاروباری خاندان سے آتے ہیں۔ ان کے دادا نے امریکہ کی مشہور ہاؤس بلڈنگ کمپنی ’پلٹے گروپ‘ کی شروعات کی تھی۔ پلٹے ایک پرائیویٹ انویسٹر بھی ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس خفیہ ایجنسیوں یا قومی سلامتی سے متعلق کوئی تجربہ نہیں ہے۔ اس وجہ سے ان کی تقرری کو لے کر امریکہ میں بحث چھڑ گئی ہے۔ ٹرمپ کو مستقل تقرری کے لیے امریکی سینیٹ کی منظوری لینی پڑے گی، جہاں ان کی اہلیت اور تجربے کی سخت جانچ ہو سکتی ہے۔
Published: undefined
ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پلٹے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فینی مے اور فریڈی میک جیسی سرکاری مارگیج کمپنیوں کی کامیابی سے قیادت کی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پلٹے حساس معاملات کو سنبھالنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ فی الحال پلٹے فیڈرل ہاؤسنگ فنانس ایجنسی (ایف ایچ ایف اے) کے ڈائریکٹر بھی بنے رہیں گے۔ واضح رہے کہ پلٹے کو کئی لوگ لٹل ٹرمپ کہتے ہیں۔ اس کی وجہ ٹرمپ کے تئیں ان کی وفاداری اور ان کا طریقہ کار ہے۔ وہ ٹرمپ کے بے حد قریبی مانے جاتے ہیں۔ انہوں نے ٹرمپ کی انتخابی مہمات کو مالی امداد فراہم کی ہے اور فلوریڈا میں واقع ٹرمپ کے پرائیویٹ کلب ’مار-اے-لاگو‘ کے رکن بھی رہے ہیں۔
Published: undefined
ٹرمپ کی طرح پلٹے بھی سوشل میڈیا پر اپنے مخالفین پر براہ راست حملے کرتے ہیں۔ انہوں نے کھلے عام امریکہ کے سنٹرل بینک (فیڈرل ریزرو) کے چیف کو بھی ہدف تنقید بنایا ہے۔ پلٹے ٹرمپ کے اتنے وفادار ہیں کہ حکومت میں جو بھی ٹرمپ کے خلاف دکھائی دیتا ہے اسے ہٹانے میں لگ جاتے ہیں۔ وہ حکومت کے پرانے اور روایتی طور طریقوں کو نہیں مانتے۔ وہ قرض دینے کے قوانین میں کرپٹو کرنسی کو شامل کرنے جیسی کئی عجیب اور نئی تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں۔
Published: undefined
واضح رہے کہ ایف ایچ ایف اے ڈائریکٹر بننے سے قبل پلٹے کے پاس کوئی سرکاری تجربہ نہیں تھا۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے ایجنسی میں بڑی تبدیلیاں کیں، کئی بورڈ ممبران کو ہٹایا اور خود کچھ اداروں کے چیئرمین بھی بن گئے۔ ناقدین کا الزام ہے کہ پلٹے نے اپنے عہدے کا استعمال ٹرمپ کے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے کیا۔ انہوں نے کئی لیڈران کے خلاف مبینہ مارگیج دھوکہ دہی کی شکایتیں بھیجیں۔ ان میں لیسا کوک، لیٹیشیا جیمز، ایرک سویلویل اور ایڈم شف جیسے نام شامل تھے۔ حالانکہ ان الزامات کو بعد میں کمزور مانا گیا۔
Published: undefined
ڈیموکریٹک رکن پارلیمنٹ مارک وارنر نے کہا کہ ٹرمپ نے کسی تجربہ کار انٹیلی جنس افسر کے بجائے ایسے شخص کا انتخاب کیا ہے جو سیاسی انتقام کے جذبے سے کام کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق پلٹے انٹیلی جنس ایجنسیوں کو بھی سیاسی ہتھیار بنا سکتے ہیں۔ صرف ڈیموکریٹس ہی نہیں، بلکہ کئی ریپبلکن رہنماؤں نے بھی ان کی تقرری پر سوالات اٹھائے ہیں۔ سینیٹر جان تھون، سوسن کولنز، جیمز لینفورڈ اور جان کورنن نے کہا کہ انہیں پلٹے کے انٹیلی جنس معاملات کے تجربے کا علم نہیں ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined