
فائل تصویر آئ اے این ایس
امریکہ میں جنسی مجرم جیفری ایپسٹین کے حوالے سے ایک اہم سیاسی پیش رفت ہوئی ہے۔ سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور ان کی اہلیہ سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کانگریس کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے گواہی دینے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سے ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا دروازہ عارضی طور پر بند ہو گیا ہے۔
Published: undefined
ایوان نمائندگان کی نگرانی اور حکومتی اصلاحاتی کمیٹی اس ہفتے ووٹنگ کرنے والی تھی کہ آیا بل اور ہلیری کلنٹن کو کانگریس کی توہین کا مجرم ٹھہرایا جائے۔ تاہم کلنٹن نے کمیٹی کی تمام شرائط مان لی اور گواہی دینے پر رضامندی ظاہر کی۔
Published: undefined
شیڈول کے مطابق، ہلیری کلنٹن 26 فروری کو، اور بل کلنٹن 27 فروری کو بند دروازوں کے پیچھے گواہی دیں گی۔ کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اس گواہی کو ویڈیو پر ریکارڈ کیا جائے اور اس کا مکمل ٹرانسکرپٹ تیار کیا جائے۔ اس کے لیے کوئی وقت مقرر نہیں کیا گیا ہے۔
Published: undefined
یہ کیس اس لیے بھی اہم ہے کہ 1983 کے بعد یہ پہلا موقع ہو گا کہ کوئی سابق امریکی صدر پارلیمانی کمیٹی کے سامنے گواہی دے گا۔ سابق صدر جیرالڈ فورڈ نے 1983 میں کانگریس کے سامنے گواہی دی تھی۔ بل کلنٹن کا نام ایپسٹین کے حوالے سے سامنے آ چکا ہے۔ تاہم، کلنٹن نے مسلسل کہا ہے کہ انہیں ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں کا کوئی علم نہیں تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے تقریباً 20 سال قبل ایپسٹین سے تمام رابطہ ختم کر دئے تھے۔
Published: undefined
اطلاعات کے مطابق کلنٹن نے اپنی گواہی کو عام کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا کمیٹی اس مطالبے کو منظور کرے گی۔اس سے قبل کلنٹن نے کہا تھا کہ انہوں نے ایپسٹین کیس کے بارے میں جو بھی محدود معلومات تھی وہ حلف ناموں کے ذریعہ فراہم کر دی تھی۔ تاہم اب کانگریس کی تحقیقات کے تحت انہیں براہ راست سوالات کے جوابات دینے ہوں گے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined