دیگر ممالک

وائٹ ہاؤس میں سی این این، پولیٹیکو اور ایم ایس ناؤ کے صحافیوں پر پابندی ’پہلی ترمیم‘ کی خلاف ورزی: ڈبلیو ایچ سی اے

ڈبلیو ایچ سی اے کی صدر جیکی ہینرک نے ایک بیان میں کہا کہ آج سی این این، پولیٹیکو اور ایم ایس ناؤ کے صحافیوں کی رسائی منسوخ کرنے کی کارروائی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی کرتی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

وائٹ ہاؤس کورسپونڈنٹس ایسوسی ایشن (ڈبلیو ایچ سی اے) نے ٹرمپ انتظامیہ سے سی این این، پولیٹیکو اور ایم ایس ناؤ کے صحافیوں کی رسائی فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ڈبلیو ایچ سی اے کی صدر جیکی ہینرک نے ایک بیان میں کہا کہ آج سی این این، پولیٹیکو اور ایم ایس ناؤ کے صحافیوں کی رسائی منسوخ کرنے کی کارروائی ’پہلی ترمیم‘ کی خلاف ورزی کرتی ہے۔ یہ بیان اس وقت آیا، جب ان تینوں اداروں کے صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے سے روک دیا گیا۔

سی این این کی سینئر وائٹ ہاؤس رپورٹر بیٹسی کلین اور ایم ایس ناؤ کی نامہ نگار اکایلا گارڈنر کو ان کے پریس بیج غیر فعال ہونے کے بعد داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ پولیٹیکو کی وائٹ ہاؤس رپورٹر شیین ہیسلٹ کو بھی داخلے سے روک دیا گیا اور خبر رساں اداروں کے مطابق ان کا کریڈینشل ضبط کر لیا گیا۔ یہ کارروائی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے تینوں اداروں کو وائٹ ہاؤس سے ممنوع قرار دینے کے اعلان کے ایک دن بعد ہوئی ہے۔ ٹرمپ نے ان پر فرضی خبریں دکھانے کا الزام لگایا تھا۔ بعد میں اپنے فیصلے سے متعلق پوچھے جانے پر ٹرمپ نے کہا کہ اس کے پیچھے کوئی ایک واقعہ نہیں ہے اور گزشتہ کچھ برسوں کی کئی خبروں کا نتیجہ قرار دیا۔

ہینرک نے کہا کہ اس فیصلے کا اثر صرف ان 3 اداروں تک محدود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا اثر آگے تک ہوگا۔ کسی نیوز ادارے کو اس کی کوریج کی وجہ سے باہر کرنے کے لیے استعمال کیا گیا معیار مستقبل میں کسی بھی نیوز ادارے پر نافذ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی عوام کو ایک آزاد پریس کے ذریعے اقتدار میں منتخب لوگوں کی جانچ پڑتال کرنے کے قابل ہونا چاہیے، چاہے سرکاری عہدیدار اسے موافق نظر سے دیکھیں یا نہیں۔

ہینرک نے کہا کہ قائم شدہ قانونی نظیر حکومت کی جانب سے رسائی واپس لینے کی صلاحیت پر اس وقت پابندی عائد کرتی ہے، جب ایک بار رسائی دے دی گئی ہو۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے عدالتوں نے بارہا تسلیم کیا ہے کہ ایک بار وائٹ ہاؤس صحافیوں کو رسائی فراہم کر دے تو وہ منمانے طور پر یا ان کی رپورٹنگ کے مواد کی بنیاد پر اس رسائی سے انکار نہیں کر سکتا۔ ڈبلیو ایچ سی اے انتظامیہ سے ہمارے ساتھیوں کی رسائی فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔

تینوں خبر رساں اداروں نے کہا ہے کہ وہ اپنی رپورٹنگ جاری رکھیں گے اور پہلی ترمیم کے تحت اپنے حقوق کا دفاع کریں گے۔ پولیٹیکو کے گلوبل ایڈیٹر ان چیف جوناتھن گرین برگر نے کہا کہ ادارہ پہلی ترمیم کے تحت اپنے حقوق کا بھرپور دفاع کرے گا۔ ایم ایس ناؤ نے کہا کہ وہ اپنے حقوق اور آزاد صحافت کے کردار کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سی این این نے اس پابندی کو اپنے آئینی حقوق پر غیر قانونی حملہ قرار دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔