دیگر ممالک

بنگلہ دیش: جماعت اسلامی نے جاری کیا انتخابی منشور، ہندوستان کے ساتھ پرامن تعلقات کا وعدہ

جماعت اسلامی نے منشور میں لکھا کہ ’’بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر روہنگیا بحران کا پرامن اور پائیدار حل نکالا جائے گا، جس سے ان کی محفوظ، باعزت اور اپنی مرضی سے واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

تصویر/آئی اے این ایس

 

بنگلہ دیش میں آئندہ ہفتہ 12 فروری کو 13واں پارلیمانی انتخاب ہونے جا رہا ہے۔ انتخاب کے پیش نظر سیاسی پارٹیوں کی طرف سے عوام کو لبھانے کے لیے وعدوں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ اس درمیان سیاسی پارٹی جماعت اسلامی نے اپنا انتخابی منشور جاری کر دیا ہے۔ جماعت اسلامی نے اپنے منشور میں ہندوستان سمیت پڑوسی ممالک کے ساتھ پرامن اور باہمی تعاون پر مبنی تعلقات قائم کرنے کا وعدہ کیا ہے، جو باہمی احترام اور انصاف پر مبنی ہوں گے۔

Published: undefined

جماعت اسلامی کے انتخابی منشور میں مذکور ہے کہ ’’پڑوسی ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات: ہندوستان، نیپال، میانمار، سری لنکا، مالدیپ اور تھائی لینڈ جیسے پڑوسی اور آس پاس کے ممالک کے ساتھ باہمی احترام اور ایمانداری کی بنیاد پر پرامن، دوستانہ اور باہمی تعلقات استوار کیے جائیں گے۔‘‘ اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات پر زور دیتے ہوئے پارٹی نے کہا کہ وہ مسلم دنیا کے ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے پر توجہ دے گی۔ اس نے امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین، جاپان اور کناڈا جیسے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے اور مشرقی یورپ، افریقہ اور جنوبی امریکہ کے ساتھ سفارتی، معاشی اور اسٹریٹجک تعلقات کو بڑھانے کا بھی ذکر کیا۔

Published: undefined

جماعت اسلامی نے کہا کہ ’’ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ تعلقات: امریکہ، برطانیہ، یورپی یونین، جاپان اور کناڈا جیسے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ اچھے اور آپسی فائدے والے تعلقات قائم کیے جائیں گے۔ مشرقی یورپ، افریقہ اور جنوبی امریکہ کے ساتھ تعلقات کی توسیع: مشرقی یورپ، افریقہ اور جنوبی امریکی ممالک کے ساتھ سفارتی، معاشی اور اسٹریٹجک تعلقات کو وسیع اور گہرا کرنے کے لیے موثر اقدام اٹھائے جائیں گے۔‘‘ ساتھ ہی جماعت اسلامی نے منشور میں لکھا کہ ’’اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیم کے ساتھ سرگرم اشتراک: امن، سیکورٹی، انسانی حقوق اور معاشی ترقی جیسے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقوام متحدہ اور اس سے منسلک ایجنسیوں میں بنگلہ دیش کی فعال حصہ داری کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔‘‘

Published: undefined

انتخابی منشور میں جماعت اسلامی نے ’ایس اے اے آر سی‘ اور آسیان جیسے علاقائی تنظیموں میں بنگلہ دیش کی مسلسل شراکت داری کی بھی تصدیق کی۔ پارٹی نے آگے کہا کہ بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر روہنگیا بحران کا پرامن اور پائیدار حل نکالا جائے گا، جس سے ان کی محفوظ، باعزت اور اپنی مرضی سے واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔

Published: undefined

جماعت اسلامی نے اقوام متحدہ کے امن مشن میں بنگلہ دیش کی شرکت کو جاری رکھنے کا بھی وعدہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی شفاف، منظم اور قانونی مائیگریشن مینجمنٹ سسٹم بنانے میں حمایت اور تعاون کا وعدہ کیا۔ 12 فروری کو ہونے والے انتخاب سے قبل جماعت کے منشور میں کئی ممالک کے ساتھ وسیع اور تعاون پر مبنی خارجہ پالیسی کا وعدہ کیا گیا ہے۔ حالانکہ اس میں پاکستان کا براہ راست کوئی تذکرہ نہیں ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined