
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ
بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی جائیداد سے متعلق حکومت نے قانونی طریقۂ کار کو واضح کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ بین الاقوامی جرائم ٹریبونل کے سرکاری وکلاء کا کہنا ہے کہ قصوروار قرار دیے گئے افراد کی جائیدادیں ضبط کرنے، ان کی نیلامی یا فروخت اور اس سے ملنے والی رقم متاثرین و شہداء کے اہل خانہ کو معاوضے کے طور پر دینے کے طریقۂ کار کو ضوابط میں واضح کیا جائے گا۔ اس کے بعد شیخ حسینہ کی درج کردہ جائیدادوں پر بھی کارروائی کا راستہ صاف ہو سکتا ہے۔ حالانکہ یہ کہنا ابھی درست نہیں ہوگا کہ شیخ حسینہ کا آبائی گھر براہ راست فروخت کر دیا جائے گا۔ جائیداد کس کے نام پر ہے، اس کا اصل مالک کون ہے اور عدالت کا حکم کس پر نافذ ہوتا ہے، ان سوالات کی بنیاد پر کارروائی طے ہوگی۔
ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی 9 بھارت ورش‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق چیف سرکاری وکیل محمد امین الاسلام نے پیر (7 ستمبر) کو صحافیوں سے گفتگو کے دوران بتایا کہ ٹریبونل کے قانون اور موجودہ اصول و ضوابط میں جائیداد ضبط کرنے، جرمانہ عائد کرنے اور متاثرین کو معاوضہ دینے کا التزام ہے، لیکن اس میں یہ واضح نہیں ہے کہ ضبط جائیداد کو کس سرکاری نظام کے ذریعہ نیلام یا فروخت کیا جائے گا۔ سرکاری وکلاء کے مطابق ضوابط میں تبدیلی کے بعد حکومت کی انتظامی شاخ عدالت کے احکامات پر عمل درآمد کے لیے واضح قانونی ڈھانچے کے تحت کارروائی کر سکے گی۔ مجوزہ تبدیلیوں کو پہلے سے دیے گئے فیصلوں پر بھی نافذ کرنے کی بات کہی گئی ہے، یعنی تبدیلی پرانے فیصلوں پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ قتل عام کے معاملے میں ٹریبونل نے شیخ حسینہ اور کئی دیگر افراد کو سزائے موت اور جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے بعد ان کی اعلان کردہ جائیدادوں کو لے کر سوال اٹھے ہیں کہ ان میں سے کون سی جائیداد براہ راست ضبط کی جا سکتی ہے۔ 2024 کے 12ویں قومی پارلیمانی انتخاب کے لیے داخل حلف نامہ کے مطابق شیخ حسینہ کے نام پر تقریباً 43.4 کروڑ ٹکا کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد تھی۔ ان میں بینک میں جمع رقم، گاڑی، سونے کے زیورات، فرنیچر اور زمین شامل ہیں۔
شیخ حسینہ کے آبائی گھر کے طور پر مشہور گھنمنڈی کا مکان نمبر 32 اس معاملے میں سب سے اہم ہے۔ یہ مکان شیخ حسینہ کی ذاتی جائیداد نہیں بلکہ شیخ مجیب الرحمٰن میموریل ٹرسٹ کے نام پر رجسٹرڈ بتایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے شیخ حسینہ کی ذاتی جائیداد سمجھ کرنے ضبط کرنا آسان نہیں ہوگا۔ قانونی ماہرین کے مطابق کسی ٹرسٹ کی جائیداد کو کسی شخص کی ذاتی جائیداد کی طرح ضبط نہیں کیا جا سکتا، جب تک الگ قانونی بنیاد یا عدالت کا حکم نہ ہو۔ اسی طرح دھنمنڈی کا ’سُدھا سدن‘ شیخ حسینہ کے بچوں سجیب واجد اور سائمہ واجد کے نام پر بتایا گیا ہے۔ غازی پور کا گارڈن ہاؤس بھی شیخ حسینہ، شیخ ریحانہ اور ان کے بچوں کو وراثت میں ملا ہے۔ اس لیے ان جائیدادوں پر کارروائی کے لیے الگ سے مالکانہ حق اور قانونی حیثیت کی جانچ ضروری ہوگی۔
شیخ حسینہ کی اعلان کردہ جائیدادوں کے علاوہ اینٹی کرپشن کمیشن (اے سی سی) کی تحقیقات میں مبینہ طور پر اضافی جائیدادوں کا بھی پتہ چلا ہے۔ 2008 کے انتخابی حلف نامے میں انہوں نے 6.50 ایکڑ زمین ظاہر کی تھی جبکہ اے سی سی کی تحقیقات میں ان کے نام پر 28 ایکڑ سے زائد زمین اور 4100 غیر منقولہ جائیدادیں ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اگر تحقیقات میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی جائیداد شیخ حسینہ کے ذاتی مالکانہ حق میں ہے اور اسے چھپایا گیا تھا تو وہ بھی ضبطی کی کارروائی کے دائرے میں آ سکتی ہے۔
قانونی اصول کے مطابق کسی شخص کی سزا کی بنیاد پر اس کے خاندان کے بالغ اراکین یا ٹرسٹ کے نام پر موجود جائیداد کو براہ راست ضبط نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ جائیداد جرم کی کمائی سے خریدی گئی تھی یا اصل مالکانہ حق کسی اور کا تھا۔ پرواچل میں شیخ حسینہ، ان کے بچوں اور ان کی بھابھی کے نام پر الاٹ 60 کٹھہ زمین کو لے کر بھی اے سی سی کا معاملہ چل رہا ہے۔ اس میں اقتدار کے غلط استعمال کا الزام ہے، لیکن اس معاملے میں بھی جائیداد کی ضبطی الگ قانونی کارروائی اور عدالت کے حکم پر منحصر ہوگی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔