دیگر ممالک

بنگلہ دیش: چٹگاؤں ہاٹ ہزاری فیلڈ فائرنگ رینج میں حادثہ، چینی ٹینک پھٹنے سے 2 فوجی ہلاک، ایک آفیسر زخمی

انٹر-سروسز پبلک ریلیشنز نے تصدیق کی کہ دھماکہ فائرنگ کے دوران ہوا اور اس کی تفتیش جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو اور رپورٹس کے مطابق یہ ٹینک ٹائپ-59 سیریز کا معلوم ہوتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>

ویڈیو گریب

 

بنگلہ دیش کے چٹگاؤں ضلع کی ہاٹ ہزاری فیلڈ فائرنگ رینج میں ایک سنگین حادثہ پیش آیا۔ بنگلہ دیش آرمی کی لائیو فائر ایکسرسائز کے دوران چینی ساخت کا ٹائپ-59 ٹینک اچانک پھٹ گیا۔ اس حادثے میں 2 فوجی ہلاک ہوگئے۔ ایک افسر شدید زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمی افسر کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ڈھاکہ کے کمبائنڈ ملٹری اسپتال پہنچایا گیا۔ بنگلہ دیش کی انٹر-سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے تصدیق کی کہ دھماکہ فائرنگ کے دوران ہوا اور اس واقعہ کی تفتیش جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو اور رپورٹس کے مطابق یہ ٹینک ٹائپ-59 سیریز کا معلوم ہوتا ہے، جسے بنگلہ دیش طویل عرصے سے استعمال کرتا رہا ہے۔ ٹائپ-59 دراصل سوویت ٹی-54 کا چینی ورژن ہے۔ یہ کئی دہائیوں پرانا پلیٹ فارم ہے۔ بنگلہ دیش نے ان ٹینکوں کو اپگریڈ بھی کیا، لیکن ان کی بنیادی ساخت پرانی ہی رہتی ہے۔ کئی ماہرین کا ماننا ہے کہ پرانے ٹینک، گولہ بارود کا معیار یا میکانیکل خرابی، کسی بھی وجہ سے ایسے حادثے ہو سکتے ہیں۔

تفتیش ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے، اس لیے حادثے کی وجہ بتانا قبل از وقت ہوگا۔ پھر بھی یہ واقعہ میڈ-اِن-چائنا فوجی ساز و سامان کی حفاظت اور قابل اعتماد ہونے پر ایک بار پھر سوال اٹھاتا ہے۔ بنگلہ دیش اپنے پرانے چینی ٹینک فلیٹ کو مکمل طور پر ریٹائر کرنے کے بجائے اپگریڈ کر کے استعمال کر رہا ہے، کیونکہ نئے ٹینک خریدنا مہنگا پڑتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ چینی ساز و سامان میں خرابی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مئی 2025 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ہونے والے تصادم (آپریشن سندور) کے دوران پاکستان نے چین سے ملنے والے کئی جدید سسٹم استعمال کیے۔ ان میں ایچ کیو-9 میزائل ڈیفنس سسٹم، پی ایل-15 طویل فاصلے کی ایئر-ٹو-ایئر میزائل اور جے-10 سی جیسے فائٹر جیٹ شامل تھے۔ یہ پہلی بار تھا، جب یہ سب ہتھیار کسی لڑائی میں نظر آئے۔ ہندوستانی فریق کا دعویٰ ہے کہ اس نے پاکستان کے چینی ایئر ڈیفنس سسٹم کو بائی پاس یا جام کر دیا، درست نشانے پر حملے کیے اور پی ایل-15 کا ملبہ بھی برآمد کیا۔

کئی آزاد اور مغربی تجزیوں سے پتہ چلتا ہے کہ کارکردگی ملی جلی رہی۔ کچھ علاقوں میں چینی میزائلوں کی رینج اور نیٹ ورکنگ فائدہ مند ثابت ہوئی، تو کچھ جگہوں پر ایئر ڈیفنس اور انٹیگریشن میں خامیاں نظر آئیں۔ چین نے اس تنازعہ کو اپنے ہتھیاروں کے لائیو ٹیسٹنگ گراؤنڈ کے طور پر بھی استعمال کیا، ایسا کئی امریکی رپورٹس میں کہا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ کے دوران دونوں فریق اپنے اپنے دعووں کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن قابل اعتماد ہونے، الیکٹرانک وارفیئر کے خلاف مضبوطی اور طویل عرصے تک قائم رہنے کی صلاحیت پر سوال ضرور اٹھے ہیں۔

ان واقعات کے باوجود پاکستان اور بنگلہ دیش نے چین سے ہتھیار خریدنا جاری رکھا ہے۔ پاکستان کی مجموعی ہتھیاروں کی درآمد میں گزشتہ برسوں کے دوران چین کی حصہ داری تقریباً 80 فیصد کے آس پاس رہی ہے۔ جے-10، جے ایف-17، ایچ کیو-9 خاندان اور کئی میزائل سسٹم پاکستان کے انوینٹری کا بڑا حصہ ہیں۔ بنگلہ دیش بھی ٹائپ-59، ٹائپ-69 اور دیگر چینی پلیٹ فارم کا طویل عرصے سے استعمال کر رہا ہے اور اپ گریڈ پروگرام چلا رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔